ساحل مالابار کے ذائقے اور عرب

جنوبی ہند کے کھانے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیرالہ میں کھانے کو پیش کرنے کا انداز بھی منفرد ہے
    • مصنف, سلمیٰ حسین
    • عہدہ, ماہر طباخ، دہلی

ہندوستان کے جنوب مغربی علاقے میں کیرالا علاقہ جنت کا نمونہ ہے۔ مصالحوں کی بھینی بھینی خوشبو، ہرے بھرے لہلہاتے چاول کے کھیت، کیلوں سے لدے درخت، اونچے قداور درختوں سے جھانکتے ناریل، اور دریاؤں کا صاف شفاف پانی اور موجیں مارتا سمندر اس ساحلی علاقے کو خوبصورت اور دلفریب بناتا ہے۔

نہ صرف اس کی خوبصورتی بلکہ کیرالہ میں پائے جانے والے مصالحوں کی مہک بیرونی ممالک کے مداحوں کو یہاں کھینچ لائی اور اس کی تجارت کا سبب بنی۔

کالی کٹ ساحل مالابار کی اہم بندرگاہ تھی اور بیرونی ممالک سے آنے والے جہاز یہیں لنگر انداز ہوتے تھے۔

14 ویں صدی میں ابن بطوطہ نے مالابار کے ساحل پر قدم رکھا۔ اپنے سفرنامے میں وہ لکھتے ہیں کہ یہاں کا چپہ چپہ سرسبرزو شاداب ہے اور مصالحہ جات کی جان لیوا خوشبو سے بھرپور۔

اس سے بہت پہلے عدن، یمن اور عمان کے تاجر ساحل مالابار پر لنگرانداز ہوئے اور مصالحوں کی تجارت کے کاروبار کو فروغ دیا۔ انھی تاجروں نے اس ساحلی علاقے میں اسلام کا پرچم لہرایا اور تجارتی فوائد کے پیش نظر یہاں کی بودوباش اختیار کی۔

عرب تاجروں کے لیے یہ کام مشکل تھا کیونکہ یورپ سے مصالحوں کی تلاش میں آنے والے والے لوگ عربوں کے تسلط کو ختم کرکے اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ہزار ہا کوشش کے باوجود وہ کامیاب نہ ہو سکے اور عرب تاجروں نے اپنا کاروبار جاری رکھا۔

کیرالہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیرالہ کا ساحل بہت خوبصورت ہے اور یہاں بہت سی قومیں پہلے پہل اتریں

سنہ 1487 میں واسکوڈی گاما نے بھی مالابار کے ساحل پر قدم جمانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ ان کے علاوہ چین کے تاجر بھی عربوں کو شکست دینے میں ناکام رہے۔

الغرض مالابار کے ساحل پر عربوں کا تسلط قائم رہا اور وقت کے ساتھ وہ شادی بیاہ رچا کر جنوبی ہند کے باشندے بن چکے تھے۔

کہتے ہیں کہ کھانا ہر تہذیب و تمدن کا آئینہ ہے۔ یہ علاقہ ملباری اور عربی تہذیب و تمدن کا سنگم بن گیا جس کے اثرات وہاں کے کھانوں پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ساحل مالابار پر بودوباش اختیار کرنے والے مسلمان ماہیلا کہلائے جس کے لغوی معنی قابل احترام یا داماد ہے۔

عربی اور ملیالی میل جول سے بنے کھانے انفرادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر میلیالی اثر ناریل ہے تو عربی نفوذ گھی۔ کیرلا کے مصالحوں سے بنے مرغ مسلم، مسلم بکرا، سری پائے اور بریانی کا ایک الگ ہی ذائقہ ہے جو شمالی ہند میں ناپید ہے۔ یہاں کے کھانوں میں نہ زعفران کی بھبک ہے اور نہ کیوڑے کی خوشبو۔ یہاں کے کھانے مرغن نہیں بلکہ مقوی ہیں۔

روٹی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعربوں کے اثرات جنوبی ہند کے کھانوں میں بھی نظر آتے ہیں

چونکہ ساحلی علاقے میں مچھلی کی افراط ہے۔ اس لیے یہاں کی بریانی گوشت اور مرغ کے علاوہ مچھلی سے بنائی جاتی ہے اور مچھلی کے مختلف پکوان عربی طرز سے پکائے اور کھائے جاتے ہیں۔

گندم اور گوشت میں بنا الیسا یہاں کا مشہور پکوان ہے جو شمالی ہند کے خوان حلیم سے قدرے مختلف ہے۔

کھانا پکانا ماہیلا خواتین کا بہترین مشغلہ ہے اور ان کے باورچی خانے وسیع اور کھانا پکانے کے ہر سامان سے مزید رہتے ہیں۔ ہر خاندان ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ہنرمندی کے بہترین نمونے پیش کرتا ہے۔

مچھلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیرالہ میں مچھلی کی بھی بریانی تیار ہوتی ہے اور مچھلی کے مختلف پکوان رائج ہیں

کالی مرچ الائیچی، دارچینی، جائفل اور جاوتری کا استعمال ان کے کھانوں کو لطیف اور صحت مند بناتا ہے۔ انھی مصالحوں سے ہندوستان کے کھانوں کا دنیا میں بول بالا ہے۔

ماہیلا کے علاوہ پرتگالیوں اور عیسائیوں نے بھی یہاں کے کھانوں پر بڑا اثر چھوڑا ہے۔ پرتگالیوں نے سادہ کھانا پکانے کا ہنر سکھایا تو عیسائیوں نے سادھیا۔

الغرض مالابار کا ساحلی علاقہ متنوع ذائقوں کا موجد ہے اور یہ ذائقے آج بھی کیرالہ کے کھانوں میں موجود ہیں اور یہاں کے کھانوں کو انفرادیت بخشتے ہیں۔