دلی میں دیوالی کے بعد شدید فضائی آلودگی پر شہری نالاں

A man rides a scooter on a road enveloped by smoke and smog, on the morning following Diwali festival in New Delhi, India, Monday, Oct. 31, 2016.

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے دلی کی مقامی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ فضائی آلودگی کا مقابلہ کرنے کے لیے سڑکوں کے کنارے پر ہوا صاف کرنے والے آلات نصب کریں گے

انڈیا کے دارالحکومت دلی کے رہائشیوں نے دیوالی کے ایک روز بعد ہی شہر میں دھوئیں اور فضائی آلودگی کی تصاویر انٹرنیٹ پر شائع کیں ہیں۔

دیوالی کے تہوار میں آتش بازی کی جاتی ہے اور روایتی طور پر بچے پٹاخے پھوڑتے ہیں۔

فضائی آلودگی کا ایک پیمانہ فضا میں انسانی صحت کے لیے نقصان دہ پی ایم 10 ذرات کی مقدار ہوتی ہے۔ عموماً اس کی حد 100 مائکرو گرام فی مربع میٹر ہوتی ہے۔

دلی میں پیر کی صبح پی ایم 10 کی مقدار 999 مائکرو گرام فی مربع میٹر ریکارڈ کی گئی۔

حکام نے ہوا کی رفتار اور فضا میں نمی کی شرح کے پیشِ نظر تنبیہ کی تھی کہ دیوالی کے بعد دلی میں شدید فضائی آلودگی ہوگی۔

گذشتہ ہفتے دلی کی مقامی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ فضائی آلودگی کا مقابلہ کرنے کے لیے سڑکوں کے کنارے پر ہوا صاف کرنے والے آلات نصب کریں گے۔

دلی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنحکام نے ہوا کی رفتار اور فضا میں نمی کی شرح کے پیشِ نظر تنبیہ کی تھی کہ دیوالی کے بعد دلی میں شدید فضائی آلودگی ہوگی۔
دلی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپیر کو دلی میں ٹریفک انتہائی آہستہ چل رہی تھی۔

پیر کے روز دلی میں آلودگی کی وجہ حدِ نگاہ انتہائی کم تھی کیونکہ شہر بھر میں دھویں کی تہہ بچھی معلوم ہوتی تھی۔

ایک شہری پراتک پراسنجیت نے ٹوئٹر پر لکھا ’دلی رات کو زبردست شو کیا، اب گھٹن سہو!‘

This is noida at 6.30 am!! #airpollution #smog

،تصویر کا ذریعہ@nandita_zee

Zero visibility at Sarai Kale Khan #Delhi #smog

،تصویر کا ذریعہ@TK_Scribbler

So while entering to Noida from Anand Vihar, thats how morning was for Delhi after #Diwali #fog #smog #crackersSpoiledEnviorment

،تصویر کا ذریعہ@MusafirMinakshi

Perhaps we Indians r the only ppl who Pay & Pray for this environmental degradation, by now it should have been bright day light

،تصویر کا ذریعہ@haroonsheikh786

دیوالی سے پہلے کئی شہر میں بہت سے لوگوں نے مہم چلائی تھی جس میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ آتش بازی سے گریز کریں تاہم ماضی میں بھی ایسی مہمات پر زیادہ غور نہیں کیا جاتا۔

پٹاخے اور آتش بازی کا سامان انڈیا میں جشن کے مترادف بن گیا ہے اور کاروباری خاندان اس پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔

2014 میں عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ میں دلی کو دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کو بعد میں انڈین حکومت نے رد کر دیا تھا۔

People light firecrackers during the Diwali festival celebrations near New Delhi, India, 30 October 2016.

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشندیوالی کے تہوار میں آتش بازی کی جاتی ہے اور روائتی طور پر بچے پٹاخے پھوڑتے ہیں۔