نیب کو تحلیل کرنے کی سفارش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی کابینہ کی بین الوزارتی کمیٹی نے قومی احتساب بیورو یا نیب کے خاتمےکےقانون کی منظوری دے دی ہے۔ نئے مجوزہ قانون کے تحت عوامی عہدے رکھنے والے سیاستدانوں کا اب پارلیمان کی ایک کمیٹی کی جس میں حزب اقتدار اور اختلاف کو برابر نمائندگی حاصل ہوگی سفارش پر ہی احتساب کیا جاسکے گا۔ یہ اعلان وفاقی وزیر پارلیمانی امور سینیٹر بابر اعوان نے آج یہاں پارلیمان کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے اسے انصاف کا تقاضہ کرنے والوں اور جمہوری قوتوں کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیا ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ اس طرح پیپلز پارٹی نے عوام کے ساتھ کیا ہوا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے کہ وہ احتساب کو انتقام کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ’بدقسمتی سے جب سے یہ نظام بنا تھا فاروق لغاری کے دور میں، پھر ریفرنس دائر کرنے کا سلسلہ سیف الرحمان کے دور میں چلا اور بعد میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں یہ احتساب ایک مذاق بن گیا تھا۔‘ نئے قانون کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کا احتساب اب ان کے متعلق اداروں کے قانون کے مطابق ہوگا۔ احتساب کے لیے جو نیا ادارہ بنایا جا رہا ہے اس میں ان کا کیس نہیں چلے گا۔ حکومت امید کر رہی ہے کہ اس نئے قانون سے ان ملازمین کو بےجا تنگ اور ذلیل و رسوا کرنے اور سکینڈل بنانے سے بچ جائیں گے۔ ’اس سے سروس میں اعتماد اور بہتری آئے گی۔‘ بابر اعوان نے مزید بتایا کہ بینکنگ شعبے میں جان بوجھ کر خسارہ ظاہر کرنے والوں کے مقدمات بھی پہلے سے موجود بینکنگ قوانین کے تحت نمٹائے جاسکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ماضی کے ادوار کی طرح سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جاسکے گا۔ صرف عوامی عہدہ رکھنے والوں کا احتساب نے نظام کے تحت ہوسکے گا۔ ’یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہوگی کہ ماضی کی طرح سیاستدان کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کرکے اس کی تذلیل نہیں ہوسکے گی۔ اسے اٹک اور ایک صوبے سے دوسرے صوبے نہیں بھیجا جاسکے گا۔‘ وفاقی وزیر کو امید تھی کہ یہ قانون اب جلد وفاقی کابینہ کی منظوری اور اس کے بعد پارلیمان میں قانون سازی کے لیئے پیش کر دیا جائے گا۔ بابر اعوان نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں سیاسی انتقام کے نظام کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس مارچ میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کی حکومت نے کسی بھی ایک شخص کے خلاف احتساب کا مقدمہ دائر نہیں کیا ہے۔ یہ فیصلے آج بین الوزارتی کمیٹی کے ایک اجلاس میں ہوا۔ اس اجلاس کی صدارتی وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کی۔ اجلاس میں بابر اعوان کے علاوہ سینیٹ میں قائد ایوان سینٹر رضا ربانی نے بھی شرکت کی۔ پاکستان میں احتساب ہمیشہ سیاسی مفادات کے گرد گھومنے کی وجہ سے انتہائی متنازعہ اور ناقابل عمل نظام رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں ان مجوزہ ترامیم کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||