اورماڑہ، کینٹونمنٹ کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ میں نیول بورڈ کے بعد اب کینٹونمنٹ بورڈ قائم کیا جا رہا ہے اور اس فیصلے کے خلاف مقامی لوگوں اور سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے سخت احتجاج کیا ہے۔ اتوار کو اورماڑہ میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے ہیں اور پہیہ جام رہا ہے۔ علاقے کی تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور کہا کہ وہ اورماڑہ میں کینٹونمنٹ بورڈ کے قیام کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ نینشل پارٹی اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے کوئٹہ، خضدار، حب، گوادر اور دیگر علاقوں میں مظاہرے کیے ہیں۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے نینشل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچ خاتون زرینہ مری پر فوج کی جانب سے تشدد کیا گیا اور بلوچستان کی سونا اگلتی زمین پر قبضہ کیا جا رہا ہے جس سے بلوچستان کے بارے میں حکمرانوں کے منصوبے واضح ہوجاتے ہیں کہ وہ بلوچستان سے کتنے مخلص ہیں۔ اورماڑہ کی ایک یونین کونسل کے ناظم مسافر بلوچ نے بتایا ہے کہ فوجی حکام نے تحصیل کونسل کے حکام کو بتایا ہے کہ اورماڑہ کو کینٹونمنٹ بورڈ بنانے کا اعلان ہو چکا ہے اور اب تحصیل کونسل کسی قسم کا ٹیکس وصول نہیں کرے گی۔ اورماڑہ سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ کینٹونمنٹ بورڈ کے لیے ترانوے ہزار ایکڑ زمین مختص کی جا چکی ہے اور اس کے علاوہ سرکاری زمینوں پر قبضہ بھی کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے سیاسی جماعتوں نے بلوچستان میں تین نئی چھاؤنیوں کے قیام کی مخالفت کی تھی اور اس بارے میں سابقہ دور میں بلوچستان اسمبلی سے ایک متفقہ قرار داد منظور کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان میں نئی فوجی چھاونیاں قائم نہ کی جائیں۔ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں فوجی کارروائیوں کے بعد چھاونیوں کے قیام کا کام جاری ہے۔ تیسری چھاونی گوادر میں قائم ہونی ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||