اوجھڑی کیمپ، بیس سال قبل کی وہ صبح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اُس قیامت خیز دن کی یاد میرے ذہن میں بالکل تازہ ہے۔ دس اپریل انیس سو اٹھاسی کو صبح دس بجے کے قریب میری آنکھ بھی اسی دھماکےسے کھلی تھی اور گہری نیند میں اس دھماکے کی آواز سے مجھے یوں محسوس ہوا تھا کہ کسی نے کوئی جستی صندوق دوسری یا تیسری منزل سے گلی میں پھینک دیا ہو۔ افغانستان پر سویت یونین کے حملے کے بعد سے پاکستان اور پاکستان کے گرد نواح میں پرتشدد اور خونی واقعات کا جو ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا تھا اُن ہی واقعات میں دس اپریل انیس سواٹھاسی بھی ہے جو ملک کے حالیہ سیاسی مدوجزر میں ذہنوں سے شاید محو ہو گیا ہے۔ لیکن بیس سال پہلے راولپنڈی شہر کے بہت سے باسی جن کے پیارے اس ناگہانی آفت میں ان سے جدا ہو گئے تھے وہ شاید اس کو کبھی نہ بھلا پائیں۔ اس دن راولپنڈی شہر کے باسیوں پر افغانستان بھیجے جانے والی امریکی میزائیلوں کی بارش میں ایک غیر مصدقہ اندازے کے مطابق پانچ ہزار کے قریب معصوم لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ ان ہی لوگوں میں نئی کابینہ میں شامل شاہد خاقان عباسی بھی شامل ہیں جن کے والد اور اُس وقت کے وفاقی وزیر پیداوار خاقان عباسی میزائیل سر میں لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ بستر سے اٹھتے ہی میں ملت کالونی میں واقع اپنےگھر کے باہر پورچ میں آگیا جہاں میری مرحوم والدہ حیرت سے کھڑی آسمان کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ پہلے تو مجھے خیال آیا کہ شاید بھارت نے کہوٹہ پر فضائی حملہ کر دیا ہو اور پاکستان افواج زمین سے جوابی کارروائی کر رہی ہوں۔ پھر سوچا گھر سے باہر جا کر معلوم کیا جائے آخر ہو کیا رہا ہے۔ موٹر سائیکل نکالی اور گلاس فیکٹری چوک کی طرف جانے لگا۔ تھوڑی دور پہنچ کر ایک عجیب منظر دیکھا کہ ساری خلقت مخالف سمت میں دوڑی چلی آ رہی ہے۔ ایک نوجوان جو شاید کسی میزائیل کے گرنے سے بال بال بچا تھا زارو قطار روتا ہوا میری موٹر سائیکل کے سامنے آگیا اور چلا چلا کر کہنے لگا’ باؤ جی مینوں بچالو‘۔ میں نے اسے دلاسا دیا اور موٹرسائیکل پر بیٹھا کر اس طرف ہو لیا جس طرف ساری خلقت دوڑی جا رہی تھی۔ تھوڑی دور جا کر اس نوجوان کو اتارا اور مری روڈ کی جانب ہو لیا۔ سکستھ روڈ پر پہنچ کر پتہ چلا کہ اوجڑی کیمپ میں دھماکہ ہو گیا ہے۔ ایک افراتفری کا عالم تھا کچھ لوگ سڑک کو بلاک کر کے لوگوں کو اس طرف جانے سے روک رہے تھے۔ میں روکاوٹوں کو عبور کرتا ہوا اوجھڑی کیمپ کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ایک اور صحافی دوست سے ملاقات ہو گئی۔ اس کے ساتھ میں اوجھڑی کیمپ سے پہلے اس سے ملحقہ آبادی گلش دادن خان کی گلی میں داخل ہو گیا۔ گھر کے اندر داخل ہو کر معلوم ہوا کہ مکین بھرا گھر کھلا چھوڑ کر جان بچا کر بھاگ گئے ہیں۔ میں ایک عجیب سی وحشت میں دوست کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے فوراً باہر آ گیا۔ پورا محلہ خالی پڑا تھا۔ اس آبادی میں سارے لوگ گھروں کو کھلا چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے تھے۔ بہت سے گھروں کی چھتیں گر گئی تھیں جو باقی تھے وہ کھلے پڑے تھے۔ اسی دھماکے کے بعد لوگوں کو علم ہوا کہ اوجھڑی کیمپ امریکہ سے افغانستان بھیجے جانے والے اسلحہ کا ایک بڑا ذخیرہ ہے۔ دو دن تک اسلحہ کے اس ڈھیر میں آگ لگی رہی اور دھماکے بھی ہوتے رہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ حادثہ تھا، تخریب کاری یا اسلحہ کی مبینہ چوری چھپانے کی کوشش۔ اس دھماکے سے چند دن پہلے یہ افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں تھیں کہ امریکہ سے دفاعی ماہرین کی ایک ٹیم افغانستان کو بھیجے جانے والے اسلحہ کے بارے میں تحقیقات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔ اوجھڑی سے افغانستان جانے والے اسلحہ میں سٹنگر میزائیل بھی شامل تھے جن کے ’غلط‘ ہاتھوں میں پہنچنے کی بھی خبریں تھیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمیدگل کے مطابق اس کیمپ میں دو سو اڑتالیس سٹنگر تھے جو سب کے سب دھماکے میں تباہ ہو گئے تھے۔ نام نہاد ’افغان جہاد‘ میں ملک کو جھوکنے والے جرنیلوں کی نسلیں سنورگئیں۔ کسی کو یہ جرات نہ ہو سکی کہ پوچھ سکے کہ یہ کروڑوں ڈالر کی جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس کہاں سے آئے؟ ہر دس سال بعد پاکستان میں آئین کا ’پامال‘ کیا جانا ہو یا سقوط ڈھاکہ، کارگل کا ایڈونچر ہو یا اوجڑی کا حادثہ، کوئی جوابدہ نہیں۔ حمود الرحمان کمیشن کی طرح شاید ایک دن جنرل عمران اللہ کی رپورٹ بھی منظر عام پر آ جائے اور عوام کو حقیقت معلوم ہو سکے۔ | بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||