’مقصد اچھا ہے، طریقہ غلط‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی خواتین ونگ نے جامعہ حفصہ کی جانب سے اسلام آباد میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے شروع کی گئی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے اپنائے گئے طریقہ کار سے اختلاف کیا ہے۔ جماعت اسلامی خواتین پاکستان کی جنرل سیکرٹری سنیٹر ڈاکٹر کوثرفردوس نے پیر کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ حفصہ کی طالبات نے اسلام کی سربلندی کے لیے جو مقصد لیکر اٹھی ہیں اس سے تو ان کو کوئی اختلاف نہیں لیکن اس کےلئے جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد میں ان کی حکومت ہے لیکن انہوں نے کبھی غیر جمہوری اور زور زبردستی سے کام نہیں لیا بلکہ ہر کام قانونی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ حفصہ کی جانب سے ردعمل حکومت کی غلط پالیسوں کی نتیجے میں پیش آیا ہے۔ جب حکومت کی موجودگی میں جسم فروشی کے اڈے مبینہ طور پر چل رہے ہوں اور انہیں تحفظ بھی حاصل ہوں تو پھر طالبات کی طرف سے ردعمل تو لازمی بات ہے۔ اس سے قبل سرحد میں چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت کی طرف سے خواتین کے فلاح و بہبود کے لیے اٹھائے گئے اقدا مات بیان کرتے ہوئے سنیٹر ڈاکٹر کوثر فردوس نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے پہلے سالانہ ترقیاتی منصوبہ عمل میں ترقیاتی بجٹ کا چوتھائی حصہ تعلیم کےلئے مختص کیا جبکہ اس بجٹ کا نصف رقم طالبات کے تعلیم کے لئے مختص ہے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے خواتین اراکین پارلمینٹ عائشہ منور، عنایت بیگم، زبیدہ خاتون، شگفتہ ناز، فوزیہ فرح، صابرہ شاکر، افتاب شبیر، راحیل قاضی اور رقیہ عزیز بھی موجود تھیں۔ |
اسی بارے میں جامعہ حفصہ کے خلاف مظاہرہ23 April, 2007 | پاکستان مدرسہ حفصہ کے خلاف کراچی ریلی15 April, 2007 | پاکستان جامعہ حفصہ مدارس بورڈ سے خارج09 April, 2007 | پاکستان حفصہ کی طالبات کے خلاف مقدمات29 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||