اسلحے کی نمائش: امریکی حاوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں امن کے لیئے ہتھیار کے نام سے جاری اسلحے کی نمائش میں سب سے زیادہ دلچسپی امریکی کمپنیوں کی دکھائی دیتی ہے۔ اس نمائیش میں امریکی فوجی وردی سے لیکر جدید طیارے ایف سولہ کی فروخت کے اسٹال موجود ہیں۔ ایکسپو سینٹر میں جاری اس نمائش میں جرمنی، فرانس ، کینیڈا، برطانیہ اور اردن کی کمپنیوں نے بھی اسٹال لگائے ہیں۔ مگر سب سے جدید ٹیکنا لوجی کی حامل امریکی کمپنیاں ہیں۔ ' لوک ہیڈ مارٹن کارپوریشن' کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر ڈکسٹر ہنسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس نمائش کا حصہ بن کر بڑی خوشی ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یہاں خریداروں کے تقاضے کے مطابق مخصوص سامان لائے ہیں۔ جن میں ہیل فائر میزائل، پی تھری، سی ون تھرٹی جیٹ چھوٹے راکیٹ شامل ہیں، مگر سب سے زیادہ پسندیدہ ایف سولہ طیارے ہیں۔ مشہور امریکی کپمنی کولٹ کی جانب سے چھوٹے ہتھیاروں کا اسٹال لگایا گیا ہے۔ کمپنی کے مینیجر مائک مکارتی نے بتایا کہ ایف فور کاربائن گن امریکی فوج میں مقبول ہے اور وہ پر امید ہیں کہ پاکستان حکومت انہیں خریدگي۔ نمائش میں برطانوی وزارت دفاع کے ادارے ڈیکسن نے بھی اسٹال لگایا ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن کے پریس سکریٹری ایڈم تھامس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ نمائش پاکستان اور برطانیہ کے مشترکہ منصوبوں میں مددگار ثابت ہوگی۔ ' ہم ایسے مشترکہ منصوبے بنانا چاہتے ہیں ، جو کمپنیاں ہماری فوج کو مستقبل کی مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ ہم ان کمپنیوں کی گنجائش اور ورائیٹی دیکھنا چاہتے ہیں '۔ برطانوی اسٹال پر دیگر سامان کے ساتھ پانی صاف کرنے کی بھی ٹیکنالوجی موجود ہے جس سے آلودہ پانی کو صاف پانی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ایڈہم تھامس کا کہنا تھا کہ برطانوی اور پاکستانی فوج ایسے علاقوں میں بھی جاتی ہیں جہاں ان کی پہلی ضرورت صاف پانی ہوتی ہے۔ ' ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے تالابوں اور جوہڑوں کا پانی صاف کیا جاتا ہے '۔ پاکستانی فوجی کے انجینئرنگ ادارے کی جانب سے نمائش میں بغیر پائلٹ کے جہاز، بارودی سرنگ ناکارہ کرنے والی گاڑیاں اور بلٹ پروف کار بھی رکھی گئیں ہیں۔ بغیر پائلٹ کے طیاروں میں، جو عام طور پر جاسوسی کے لئے استعمال کیئے جاتے ہیں عرب ممالک کی طرف سے دلچسپی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بلٹ پروف کار کے متعلق کہاجارہا ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ یہ کار بنائی گئی ہے جو مقامی مارکیٹ میں بھی فروخت کی جائیگی۔ پاکستان میں تیار کی گئی الخالد ، ضرار ٹینک ، سیمیولیٹر ، ایمبولینس ، واٹر ٹینک وہیکل بھی نمائش کے لیئے رکھے گئے ہیں۔ پاکستان نےجب سن دو ہزار میں یہ نمائش منقعد کی تھی تو اس وقت پاکستان کی اسلحے کی درآمدات دو کروڑ ڈالر تھیں جو گزشتہ پانچ برسوں میں بڑھ کر دو سو ملین ڈالرزپہنچ گئی ہیں۔ اس سال بھی کسی بڑی ڈیل کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ | اسی بارے میں برقعے میں ہتھیار23.09.2002 | صفحۂ اول ’بھارت ہتھیارجمع کررہا ہے‘11.09.2002 | صفحۂ اول کیا ایٹم بم جنگ ٹالتا رہا؟11.05.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||