مری میں رہائشی عمارت گر گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تفریحی مقام مری میں ایک آٹھ منزلہ رہائشی عمارت گرگئی ہے جس کے نتیجہ میں اطلاعات کے مطابق پندرہ افراد ملبے میں پھنس گئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملبے سے دو لاشیں نکالی جا چکی ہیں جو کہ عمارت کے مالک اورنگزیب اور ان کے بیٹے کی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مری جی پی او کے نزدیک واقع اس عمارت کے رہائشی زیادہ تر کم مدت کے لیئے کرایہ پر رہنے والے لوگ ہوتے تھے۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق ایک سو افراد جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ ملبہ ہٹانے کے لیئے ایک کرین بھی موقع پر موجود ہے۔ شوکت سلطان نے کہا کہ مری میں ایک ہیلی کاپٹر بھی موجود ہے جو ممکنہ شدید زخمیوں کو راوالپنڈی پہنچانے کے لیئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے مزید بتایاہے کہ ملبے میں دبے افراد میں سے کم از کم تین نے اپنے موبائل فونوں کے ذریعے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔مری کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے مطابق اب تک ایک لڑکی کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے اور ایک اندازے کے مطابق پندرہ افراد ابھی تک ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک پولیس اہلکار راجہ اکرم کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تمام عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی ہے۔ راجہ اکرم نے کہا کہ صرف عمارت کی اوپر کی منزل نظر آ رہی ہے۔ عمارت کے ملبے میں پھنسی ایک عورت نے اپنے موبائل فون کے ذریعے پولیس کی مدد طلب کی۔ تاہم اس خاتوں کو عمارت کے ملبے میں پھنسے باقی افراد کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ عمارت کے مالک کے ایک رشتہ دار نے پولیس کو بتایا کہ عمارت کے اندر اس کا مالک اس کی بیوی اور اس کا بیٹا اور بیٹی بھی موجود تھے۔ یہ عمارت صبح تین بجے گری۔ پولیس ذرائع کے مطابق عمارت کے گرنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ مری میں بہت سی عمارتیں مخدوش حالت میں ہیں۔ گزشہ سال کے زلزلے سے بہت سی عمارتیں کمزور ہو گئی تھیں۔ اکتوبر میں آنے والے اس زلزلے میں ستر ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اکتوبر میں زلزلے کے بعد بہت دنوں تک مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے زلزلے کےجھٹکے محسوس کیئے جاتے رہے تھے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||