درہ، ہنگو دھماکے: چھ زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں منگل کے روز ایک بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیم کی گاڑی میں دھماکے سے دو طلبہ سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ادھر صوبہ سرحد کے جنوب مغربی ضلع ہنگو میں سوموار کی رات ایک بم دھماکے میں دو عورتیں شدید زخمی ہوئی ہیں۔ اسلحے کے بازار کے لیئے مشہور درہ آدم خیل میں دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے پولیٹکل تحصیلدار ایف آر کوہاٹ اسماعیل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ رسپانس انٹرنیشنل یو کے نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کی پک اپ گاڑی میں ہوا۔ یہ گاڑی درہ بازار میں ایک سکول کے قریب کھڑی تھی۔ مقامی اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں ڈرائیور سمیت چار افراد زخمی ہوئے۔ دو معمولی زخمی افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیا گیا جبکہ دیگر دو کو مزید علاج کے لئے پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ تحصیلدار نے بتایا کہ این جی او کے اہلکار دررہ آدم خیل کے بازار میں واقعہ گورنمنٹ ہائی سکول میں بچوں کے صحت سے متعلق ایک تربیتی ورکشاپ میں مصروف تھے کہ یہ دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ این جی او کے اہلکاروں نے ایف آر کوہاٹ کی انتظامیہ سے درہ آدم خیل آنے کے سلسلے میں اجازت نہیں لی تھی اور نہ ہی اس بارے میں انہیں پہلے کوئی اطلاع دی گئی تھی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق زخمیوں ہونے والوں میں گورنمنٹ ہائی سکول ایف آر کوہاٹ کے دو طلبہ بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں پشاور میں رسپانس انٹرنیشنل یو کے کے پراجیکٹ منیجر افضل حیات خان نے رابط کرنے پر انتظامیہ کے اس الزام کی سختی سے تردید کی کہ ان کی ٹیم بغیر اجازت کے ایف آر کے علاقے میں داخل ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پراجیکٹ منیجر کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ آج کل قبائلی علاقوں میں بچوں کے صحت کے حوالے سے ایک پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔ ادھر پیر کی رات ہنگو میں دھماکے کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گھریلو ساخت کا بم تھا جو نامعلوم افراد نے محلہ روچین وال میں غیاث علی شاہ نامی شخص کے گھر کے باہر نصب کر رکھا تھا۔ دھماکے کی وجہ فوری طورپر واضع نہیں ہوسکی ہے۔ ضلعی ناظم ہنگو غنی الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ضلعی پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ہنگو میں میزائل اور بم حملے ہو رہے ہیں لیکن بقول ان کے مقامی پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور ابھی تک ملزمان کوگرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ | اسی بارے میں افغان پولیس: پاکستانی تربیت02 September, 2003 | صفحۂ اول کوہاٹ: ’دوستی ٹنل‘ تیار10.06.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||