دھماکے اور فضائی حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر نوشکی اور سندھ کے شہر کشمور میں ریل کی پٹڑیوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا ہے جبکہ سوئی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ سنگسیلہ کے قریب ٹوبہ کے مقام پر سکیورٹی فورسز نے فضائی حملے کیئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ کوئٹہ میں طلبا کی گرفتاری کے خلاف مری قبیلے کے طالب علموں نے احتجاج اپنی کتابوں کو آگ لگا دی ہے۔ کوئٹہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور جنوب مغرب میں نوشکی کے مقام پر نا معلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے کوئٹہ سے تفتان ریلوے ٹریک کے ایک ٹکڑے کو اڑا دیا ہے۔ ریل وے کے حکام نے کہا ہے کہ منگل کو اس سمت کسی ریل نے نہیں جانا تھا۔ ادھر بلوچستان کے ساتھ صوبہ سندھ کے شہر کشمور میں ریل کی پٹڑی کو تین مقامات پر دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔ جعفر آباد سے مقامی صحافی ہاشم نے بتایا ہے کہ ان دھماکوں کے بعد ریل گاڑیوں کی آمد و رفت کوئی پانچ گھنٹے تک معطل رہی۔ سوئی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ پورے دن سوئی میں پانچ سے آٹھ ہیلی کاپٹر پرواز کرتے رہے ہیں اور سنگسیلہ کے قریب ٹوبہ کے مقام پر حملے بھی کیئے گئے ہیں لیکن کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ سوئی میں بگٹی کالونی سے لوگوں کو گھروں سے باہر بھی نکلنے نہیں دیا گیا۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے اور نہ ہی انہیں اس بارے میں کوئی اطلاع دی گئی ہے۔ کوئٹہ میں گزشتہ روز سریاب روڈ پر دھماکے کے حوالے سے پولیس نے چالیس سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس دھماکے میں ایک خاتون اور بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہو گئے تھے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||