صوبہ سرحد: نئے گورنر نامزد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی جان اورکزئی کو صوبہ سرحد کا نیا گورنر مقرر کیا ہے۔ ان کی تقرری خلیل الرحمان کے مستعفی ہونے کے بعد عمل میں آئی ہے۔ اس سے پشاور میں کئی روز سے جاری قیاس آرائیاں سچ ثابت ہوگئی ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سابق گورنر کمانڈر خلیل الرحمان کو مرکزی حکومت میں نئی ذمہ داری سونپی جارہی ہیں اور انہیں وزیر اعظم کا خصوصی معاون مقرر کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کسی سابق فوجی کو دوبارہ گورنر تعینات کرنے سے یہ تو ظاہر نہیں ہوتا کہ حکومت اب بھی وزیرستان کے قزیے کا حل فوجی طریقے سے حاصل کرنا چاہتی ہے تو وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی د رانی کا کہنا تھا کہ انہیں ایک سویلین کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس کا اسی علاقے سے تعلق ہے۔ ’وہ قبائلی روایات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور وہ قبائلیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر وہاں کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔‘ گورنر سرحد وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا کی انتظامیہ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ یہی وجہ اسے عہدے کو دیگر تین صوبوں سے زیادہ اہم بناتی ہے۔ خلیل الرحمان چودہ ماہ تک اس اہم اور طاقتور عہدے پر فائز رہے۔ اس دوران تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیرستان میں امن وامان کی صورت حال کافی بگڑی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ دنوں اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے پر ان کے صوبائی حکومت سے بھی تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔ تاہم ان کی تبدیلی کی وجہ کیا تھی اس بارے میں سرکاری سطح پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی جان اورکزئی فوج میں اپنی سروس کے دوران پشاور کے کور کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ مارچ سن دو ہزار چار میں کور کمانڈر کے عہدے سے ہٹا کر سیکٹری دفاعی پیدوار تعینات کیے گئے تھے۔ چار سال قبل انہیں کے دور میں قبائلی علاقوں میں پہلی مرتبہ فوج تعینات کی گئی تھی۔ گورنر کی تبدیلی ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صوبائی حکومت سابق گورنر کے ساتھ مشترکہ طور پر وزیرستان کے مسلہ کے حل کے لیئے ایک جرگے تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف تھی۔ نئے گورنر کے آنے سے اس جرگے کا مستققبل کیا ہوگا ابھی واضع نہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||