BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریل: خوشیاں، امیدیں اور خدشات

سندھ میں لوگوں کو امید تھی کہ اس سے تجارت اور روز گار کے مواقعے پیدا ہوں گے
سندھ میں لوگوں کو امید تھی کہ اس سے تجارت اور روز گار کے مواقعے پیدا ہوں گے
پاکستان اور بھارت کے درمیان کھوکرا پار، مونا باؤ کےراستے ریلوے سیکشن کی بحالی پر اردو، سندھی اور تھری زبانیں بولنے والے صوبہ سندھ کے عوام خوشی، خدشات، ناراضگی، افسوس اور امیدوں کے ملے جلے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اردو بولنے اور خود کو مہاجر کہنے والے بہت زیادہ خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ دونوں ممالک میں تقسیم شدہ خاندانوں کو ملنے میں مدد ملے گی۔ جبکہ بیشتر سندھی قوم پرست تنظیمیں اس ریل رابطے کی بحالی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ اس سے متحدہ قومی مومینٹ بھارت سے اردو بولنے والے اپنے ہزاروں حامیوں کو سندھ میں آباد کرے گی اور سندھی اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔

صوبہ سندھ میں قوم پرستی اور علیحدگی کی تحریک کے امام جی ایم سید کی سیاسی اور خاندانی جان نشینی کے دعویدار قومپرست رہنما اور ان کی تنظیمیں اس رابطے کی بحالی پر دیگر قوم پرستوں کے ساتھ نہیں ہیں۔

پاکستانی شہر کھوکھرا پار سے مونا باؤ ریل رابطہ کے نام سے مشہور اس سروس کی بحالی پر تھری زبان بولنے والے سندھ کے تھر کے عوام خوشی، افسوس اور امید کے ملے جلے جذبات کا اظہار کر رہے۔ انہیں خوشی اس بات کی ہے کہ اکتالیس برسوں بعد منقطع ریل سروس دوبارہ شروع ہوئی ہے۔

تھر کے عوام اس ریل کے کئی سٹیشنوں پر روکنے کا مطالبہ کر رہی ہیں

جبکہ افسوس یہ ہے کہ میر پور خاص سے زیرو پوائنٹ تک سترہ چھوٹے بڑے ریلوے سٹیشنوں میں سے کسی پر بھی یہ ریل نہیں رکتی۔ ان کی امید اور مطالبہ یہ ہے کہ کم از کم پانچ بڑے ریلوے سٹیشنوں پر جن میں شادی پلی، پتھورو، ڈھورو نارو، چھور اور کھوکھرا پار شامل ہیں وہاں اس ریل کے رکنے کا اہتمام کیا جائے۔

تھر کے ایک باریش دانشور ارباب نیک محمد کا کہنا ہے کہ اگر یہ ریل مندرجہ بالا پانچ ریلوے سٹیشنوں پر نہیں رکتی تو کسی طور پر بھی اس سروس کی بحالی سے سندھی عوام کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ گھاٹے کا سودا ہوگا اور فائدہ صرف پاکستان میں پیدا ہونے کے باوجود بھی خود کو مہاجر کہنے والوں کو ہوگا۔

اس ریل سروس کا نام کھوکھرا پار مونا باؤ ہے لیکن یہ ریل کھوکھرا پار کے سٹیشن پر نہیں رکتی۔ کھوکھرا پار کے لوگ زیرو پوائنٹ کے نام سے نئے سٹیشن بنانے پر سخت ناراض ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ ایک سازش ہے اور اس سے ان کا بسا ہوا شہر برباد ہوجائے گا۔

اکثر اوقات قحط کا شکار بننے والے تھر کی ایک بڑی برادری راہموں سے تعلق رکھنے والے دودا خان سے کھوکھرا پار ریلوے سٹیشن پر ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اگر یہ ریل ان کے سٹیشن پر رکتی تو ان کے غریب لوگ پان، بیڑی اور چائے وغیرہ بیچتے اور چھوٹی موٹی دکانوں سے ان کو روزگار ملتا۔

جبکہ ایک سرکاری ملازم نے کہا کہ ’صاحب بات یہ ہے کہ دفاعی مقاصد کے لیے انہوں نے نیا سٹیشن بنایا اور ہم غریب تھری عوام کی خوشیاں لوٹ لی ہیں اور ہمیں بھوکھا رکھنے کی سازش ہے،۔

ٹرین چلنے سے لوگوں کو اپنے رشتہ داروں سے ملنے کا موقع ملے گا

اس سٹیشن پر موجود جام مرید سموں نے بتایا کہ ان کا بیٹا اپنے دوستوں کے ہمراہ اونٹوں پر سولہ کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرکے رات بھر جاگتے رہے کہ وہ ریل دیکھیں۔

عمر کوٹ کے سابق تحصیل ناظم سید نور علی شاہ کہتے ہیں کہ جب تک بیوپار کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تھر کے پانچ بڑے سٹیشنوں پر اس کا سٹاپ بحال نہیں ہوگا اس وقت تک کسی بھی اعتبار سے یہ ریل سروس سندھی اور تھری عوام کے حق میں نہیں ہوسکتی۔

تھر پارکر کے ایک نوجوان دانشور سید سردار علی شاہ کہتے ہیں کہ اس ریل کو عالمی ریل سروس تو کہتے ہیں لیکن اس میں ریستوران اور ایئرکنڈیشنڈ بوگیاں نہ لگانا اور معاہدے میں ’فریٹ، پر پابندی لگانے سے لگتا ہے کہ وفاقی حکومت کی پنجاب نواز لابی اس سروس کو جلد ہی بند کرادے گی کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اس ریل سروس کی وجہ سے واہگہ کی سرحد ویران ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں جب ایران اور افغانستان کی تجارت واہگہ کے بجائے کھوکھرا پار سے شروع ہوگی یقینن لاہور کا نقصان ہوگا۔ ان کا موقف ہے کہ جنوبی پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے مسافر اور کاروباری اشیاء جتنی قیمت اور وقت میں لاہور پار کرکے بھارت کی حدود میں داخل ہوں گے اتنی دیر میں بمبئی پہنچ جائیں گے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی کنور خالد یونس اور وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات صلاح الدین حیدر نے اس ریل پر سفر کے دوران صحافیوں سے بات چیت کے دوران اس بات کا دبے الفاظ میں وفاقی حکومت کی جانب سے اس سروس کو ناکام بنانے کے الزامات لگائے۔

خوشیوں، ناراضگیوں، خدشات اور امیدوں کے اس ماحول میں زیادہ تر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ ریل سروس ایک سیاسی نوعیت کی ہے اور زیادہ دیر چلنے کی امید کم ہی ہے اور کسی بھی وقت کسی بہانے اس ریل سروس کے بند ہونے کا اعلان ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد