لاہور میں پراسرار قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور پولیس کو مینار پاکستان کے احاطے سے ہفتے کو ایک پینتس سالہ شخص کی لاش ملی ہے جس کا سر کسی کند آلے سے کچلا گیا تھا۔ ایس پی سٹی ڈاکٹر عثمان نے بی بی سی کو بتایا کہ دس روز کے دوران یہ ایک ہی نوعیت کا پانچواں واقعہ ہے جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب سات ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان سلسلہ وار پر اسرار ہلاکتوں کی ابتداء دس روز قبل یعنی تیس جون کو ہوئی تھی جب مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں دو نامعلوم افراد اس حالت میں مردہ پائے گئے کہ ان کے سرکچلے ہوئے تھے اور قریب ہی خون آلود اینٹیں پڑی تھیں۔ تین ہی روز بعد مزید دو لاشیں اندرون شہر سے برآمد ہوئیں لیکن ان کے سر کسی کند آلے سے کچلے گئے تھے۔ آج ملنے والی لاش ساتویں ہے ۔اگرچہ سات میں سے تین افراد کو کسی کند آلے سے اور چار کو سر میں انیٹیں مار کے قتل کیا گیا ہے لیکن ایس پی سٹی کا کہنا کہ یہ تمام قتل ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق اس مفلس اور نادار طبقے سے ہے جو کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ دو سال پہلے بھی لاہور سمیت پنجاب کے چند شہروں میں اسی طرح کی ’سیریل کلنگ‘ کی وارداتیں ہوئی تھیں جن میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے لیکن پھر یہ وارداتیں رک گئی تھیں۔ اب حالیہ ہلاکتوں کے بعد پولیس نے ایسے مقامات پر سادہ پوش اہلکار تعینات کردیے ہیں جہاں زیادہ تعداد میں لوگ کھلے آسمان تلے سوتےہیں۔ اس کے علاوہ پولیس کی تین مختلف ٹیمیں قاتلوں کا سراغ لگانے کے لیے الگ الگ تفتیش کر رہی ہیں لیکن پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی انہیں کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں ہوپائی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||