بی بی سی سنگت، ڈیرہ اسماعیل سے ژوب تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی سنگت کی ٹیم جب ڈیرہ اسماعیل خان سے اپنی اگلی منزل کے لیے روانہ ہوئی تو وہاں کے لوگوں کی محبت کی چاشنی اور سوہن حلوے کی مٹھاس ہمراہ تھی۔ ہمارے سامانِ سفر میں ڈیرہ کے حلوے اور مسواک جیسے تحائف کا اضافہ ہوچکا تھا۔ بلوچستان کے شمالی شہر ژوب کے دو سو پچیس کلومیٹر طویل سفر میں بارش نے ایک مرتبہ پھر تمام راستے ساتھ دیا۔ راستے میں قبائلی علاقے ایف آر شیرانی سے گزرے تو مقامی لوگ پہلے سے انتظار میں روایتی مہمان نوازی کا انتظام کئے ہوئے تھے۔ ساتھ میں ہر کوئی اپنے مسائل سنانے کو بھی بیتاب تھے۔ اس بارش سے موسمی اعتبار سے سفر خوشگوار تو ضرور بنا لیکن وہیں اس سے مشکلات بھی پیدا ہوئیں۔ کئی برسوں سے ڈیرہ ژوب روڈ کی تعمیر کے بارے میں سنتے آ رہے تھے کہ لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ مکمل کب ہوگی۔ اب اندازہ ہوا کہ کافی کام ابھی بھی باقی ہے۔ کچے راستے ایسے کہ ایک دریا کو دو دو مرتبہ پار کرنا پڑا۔ راستے میں مسافر گاڑیاں چلانے والوں سے بات کرنے موقعہ ملا۔ خالق داد پچھلے چھ برسوں سے اس سڑک پر گاڑی چلاتے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ راستہ دشوار ہے پہاڑوں سے پتھر گرتے ہیں۔ حادثات ہوتے ہیں۔ مسافروں کو مشکلات ہیں۔ ابھی دو قدم ہی چلے تھے کہ دوماندا کے مقام پر ایک ٹریکٹر کے دلدل میں پھنسنے سے تمام ٹریفک بند تھی۔ درجنوں گاڑیاں سڑک کی دونوں جانب پھنس گئیں۔ واپس لوٹنا بھی ناممکن تھا۔ پیچھے بھرے ٹرک سے راستے دینے کو کہا تو اس نے انکار کر دیا۔ ان کو ایسا کرنے سے الٹنے کا خطرہ تھا۔ لہذا آگے ہی جایا جا سکتا تھا۔ اس طرح چار گھنٹوں تک پھنسے رہنے کے بعد تو ہمارے ٹیم لیڈر جاوید سومرو بھی کچھ ناامیدی کی باتیں کرنے لگے۔ وہ اور ہم سب گاڑی میں رات گزارنے کے لئے سیٹوں کا بٹوارا کرنے لگے۔ خیر اللہ اللہ کر کے چار گھنٹوں کے انتظار کے بعد راستہ کھلا۔ اس تاخیر کی وجہ سے ژوب کے مہمان نواز صحافیوں میں تشویش پیدا ہوئی اور ان کے پریس کلب کا ایک وفد غلام سرور شیرانی کی قیادت میں ہمیں لینے وہیں آپہنچا۔ ان کے ہمراہ ایک مرتبہ پھر ہم منزل مقصود کی جانب روانہ ہوئے۔ کوہ سلیمان کے پُرپیچ راستوں پر خشک لیکن اونچے اونچے پہاڑوں نے حیرت میں ڈال دیا۔ بلندی کی وجہ سے مشہور تختِ سلیمان تو نظر نہیں آیا لیکن تختے جیسے پہاڑ ضرور دیکھنے کو ملے۔ اس جگہ کو تخت سلیمان کیوں کہتے ہیں؟ اس بارے میں ژوب کے مقامی صحافی محمد اکبر شیرانی نے بتاتے ہوئے کہا کہ مقامی شیرانی ’جب انہیں ایک تخت کے ذریعے جنات نامعلوم مقام کی جانب لیجا رہے تھے کہ راستے میں بیگم بلقیس نے خواہش کا اظہار کیا کہ وہ آخری مرتبہ اپنے علاقے پر نگاہ ڈالنا چاہتی ہیں۔ ان کا تخت ان پہاڑوں پر اتارا گیا۔ اکبر شیرانی کے مطابق اب یہ جگہ زائرین کے لئے ایک مقدس مقام کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ وہاں ایک مسجد بھی تعمیر کی جا چکی ہے۔ یہ روایت سننے کے بعد دوبارہ اپنی گاڑی میں روانہ ہوئے۔ اس راستے کی حالت دیکھ کر دل میں ارمان پیدا ہوا کہ کاش تخت سلیمان پر ہم بھی سفر کر سکتے تو بارہ بارہ گھنٹے کی مشکلات سے تو بچ جاتے۔ راستے میں جہاں بھی رکے بی بی سی سننے والوں کا مجمہ اکٹھا ہوگیا۔ بارہ گھنٹوں کی مسافت کے بعد رات نو بجے کی تاریکی میں بل آخر ژوب پہنچے۔ اس وقت کھانے سے بھی زیادہ نیند کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||