BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 March, 2005, 19:21 GMT 00:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فورٹ سینڈیمن سے ژوب تک

News image
تخت سلیمان اور ژوب دریا کے درمیان واقع شہر ژوب کی سب سے اہم اور تاریخی عمارت فورٹ سینڈیمن یا سینڈیمن کا قلعہ ہے۔

یہ قلعہ گورنر جنرل بلوچستان سر رابرٹ سینڈیمن نے اپنی رہائش گاہ کے طور پر سن اٹھارہ سو نوے میں تعمیر کرایا تھا۔ اور یہ شہر انیس سو پچھتر تک اسی کے نام سے جانا جاتا تھا۔

انیس سو پچھتر میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مقامی عمائدین کے مشورے سے اس شہر کا نام بدل کر ژوب رکھ دیا۔

پشتو زبان میں ژوب کا مطلب ہے ’رستا ہوا پانی‘ جو شاید یہاں ہر طرف بہنے والے پہاڑی چشموں کی جانب اشارہ ہے۔

انگریزوں کے زمانے میں یہ عمارت علاقے کے پولیٹیکل ایجنٹ کی رہائش گاہ ہوتی تھی۔ آج کل یہ علاقے کے ضلعی رابطہ افسر یا ڈی سی او کا گھر اور دفتر ہے۔

فورٹ سینڈیمن کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اس کی شکل بحری جہاز جیسی ہے۔ دور سے دیکھنے پر یوں لگتا ہے جیسے پہاڑی پر بحری جہاز کھڑا ہو۔

اس میں رہنے والے ژوب کے ڈی سی او آغا عبدالحسن کہتے ہیں کہ گرمیوں میں جب حرارت سے کی وجہ سے ہوا میں سراب بنتا ہے تو اس میں باقاعدہ اس عمارت کا عکس نظر آتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے جہاز پانی میں تیر رہا ہو۔

یہ قلعہ آس پاس کی آبادی سے کچھ فاصلے پر اور بلندی پر ہے۔ اس سے ژوب کا تقریبًا پورا علاقہ نظر آتا ہے۔

قلعے میں باپ دادا کے زمانے سے کام کرنے والے محمد ایوب کا خیال ہے کہ انگریزوں نے یہ قلعہ اتنا اوپر اس لیے بنایا کہ جو شخص شکایت لے کر آئے وہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے اتنا تھک جائے کہ اس کی سانس پھول جائے اور اس کا غصہ اتر جائے۔

لیکن ڈی سی او ابو الحسن کا کہنا ہے کہ دراصل یہ قلعہ اس لیے بلندی پر بنایا گیا تھا کہ انگریز افسر آپ پاس کی آبادی پر نظر رکھ سکے اور اگر کوئی بھی قلعے پر حملہ کرنا چاہے تو اسے پہلے سے پتہ چل جائے۔

قلعے کی صرف عمارت ہی پرانی نہیں، اس کے اندر بھی بہت سی تاریخی چیزیں ہیں۔

مین دروازے سے اندر داخل ہوں تو دائیں ہاتھ پر مہمان خانہ ہے۔ ابوالحسن کہتے ہیں کہ اس مہمان خانے کے ایک کونے میں انگریزوں کے زمانے میں ایک خفیہ سرنگ تھی جسے بعد میں بند کر دیا گیا۔

صوفے کے پیچھے دیوار پر لگا قالین دو ڈھائی سو سال پرانا ہے اور چھت پر لگا پنکھا انیس سو دو میں انگریز اپنے ساتھ لائے تھے۔ پیلے رنگ کا دو پروں کا یہ پنکھا نوے انچ چوڑا ہے۔

قلعے میں زیادہ تر فرنیچر، پلنگ وغیرہ انگریزوں کے زمانے کے ہیں۔ ایک پیانو بھی ہے جو لارڈ سینڈیمن اپنے ساتھ لائے تھے۔

قلعے کا ایک کمرہ ایسا بھی ہے جس میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن، محمد علی جناح، علامہ اقبال، فاطمہ جناح وغیرہ جیسی تاریخی شخصیات کے علاوہ بھی ملک کے اکثر سربراہان اور سابق وزراء اعظم ٹھہرے ہیں۔

ڈی سی او کے دفتر میں ایک لکڑی کے بورڈ پر اٹھارہ سو دس سے آج تک اس قلعے میں تعینات تمام افسران کی لسٹ آویزاں ہے۔

دوسری دیوار پر انگریزوں کے زمانے کا ایک علاقے کا نقشہ لٹکا ہوا ہے جس پر اسکی عمر کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

اسی قلعے کے ایک کمرے میں ایک مقامی قبائلی نے ایک انگریز افسر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ بعد میں اسے پھانسی دے دی گئی۔

اونچائی پر ہونے کے باوجود اس قلعے میں پانی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انگریزوں کے زمانے ہی سے ایک قریبی چشمے کا پانی پائپ کے ذریعے قلعے کے ایک ٹینک میں جمع کیا جاتا ہے۔ چشمے کا پریشر اتنا ہے کہ بغیر بجلی کے یہ پانی با آسانی اوپر تک پہنچ جاتا ہے۔

اکثر پرانی عمارتوں کی طرح اس قلعے کے بارے میں بھی بھوت پریت کی کہانیاں مشہور ہیں۔

محمد ایوب کہتے ہیں یہاں کبھی کبھی پیانو اپنے آپ بجنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ڈی سی او کی اہلیہ کہتی ہیں کہ اکثر صبح نماز کے وقت کوئی ہلا کر اٹھاتا ہے۔

اگرچہ یہ قلعہ ابھی تک رہائش کے کام آتا ہے لیکن اس کی عمارت میں اب جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کے آثار نمایاں ہیں اور اس کی کئی چھتوں اور دیواروں کی مرمت ہو چکی ہے جبکہ اکثر کو مرمت کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد