ٹرکوں کی ہڑتال، منڈیوں پر اثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بھر میں ٹرکوں کی ہڑتال کی وجہ سے منڈیوں میں مال کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور گڈز ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال اتوار کو بھی جاری رہے گی۔ ملک بھر میں ایک شہر سے دوسرے شہر میں سامان لے جانے والے ٹرکوں نے جمعہ کے روز سے ہڑتال کی ہوئی ہے۔ ٹرک سامان کی بکنگ نہیں کررہے اور سامان کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ بھی نہیں کر رہے۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں تقریباً دس لاکھ ٹرک ایک شہر سے دوسرے شہر میں مال لے جاتے ہیں لیکن انہیں حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ایکشن کمیٹی کے چئرمین مختار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے حکومت کے سامنے آٹھ مطالبات رکھے ہیں لیکن حکومت نے ٹرک ایسوسی ایشن سے کوئی بات چیت شروع نہیں کی اور ہڑتال اتوار کے روز بھی جاری رہے گی۔ گڈز ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرکوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر پندرہ روز بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تبدیل کر دی جاتی ہیں جس سے ٹرک مالکان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں سال میں صرف ایک بار متعین کی جائیں جیسا کہ پہلے ہوا کرتا تھا اور حال ہی میں کیے گئے اضافہ کو واپس لیا جائے۔ ٹرانسپورٹرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ شاہراوں پر ٹرکوں کو اغواء کر کے سامان چوری کر لینے کے واقعات میں بہت اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ تین برسوں میں ان واقعات کے ہزاروں مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔ گڈز ٹرانسپورٹرز کا مطالبہ ہے کہ ٹرکوں کے اغواء کے واقعات کی روک تھام کی جائے۔ گڈز ٹرانسپورٹرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے ہر ٹرک کے لیے ایک خاص وزن کا تعین کیا ہوا ہے اور زیادہ وزن کو جانچنے کے لیے ہر ضلع میں کانٹے یا ترازو لگے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک ٹرک پر زیادہ وزن پایا جائے تو ہر ضلع میں مال بردار ٹرک کا الگ الگ جرمانہ کیا جاتا ہے جو ہزاروں روپے بن جاتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کسی ٹرک کو زیادہ وزن کی صورت میں صرف ایک ضلع میں جرمانہ کیا جائے۔ اتوار کو گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کی ایکشن کمیٹی کا اجلاس لاہور میں ہوگا جس میں اتوار کے بعد ٹرکوں کی ہڑتال جاری رکھنے کے بارےمیں لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||