BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 March, 2005, 21:00 GMT 02:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشتی الٹنے سے 30 افراد ہلاک

فائل فوٹو
ایسے حادثات کی وجہ عموماً کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد بٹھانا ہی ہوتی ہے۔
رحیم یار خان میں چاچڑاں شریف کے قریب دریاۓ سندھ میں کشتی الٹنے سے تیس کے لگ بھگ افراد کے ڈوبنےکا خدشہ ہے۔

حکام کے مطابق کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے جبکہ بارشوں کے باعث دریا میں پانی بھی زیادہ تھا۔

حادثے کا شکار ہونے والی کشتی راجن پور کے مقام مٹھن کوٹ سے چاچڑاں شریف کی طرف آرہی تھی کہ بیچ دریا میں الٹ گئی۔ حادثے کے بارے اطلاع ان افراد نے دی جو کشتی الٹنے کے بعد تیر کر دریا پار کرنے میں کامیاب ہوگۓ۔

ان میں سے ایک شخص شہزاد نے پولیس کو بتایا کہ موٹر کے ذریعے چلنے والی اس کشتی میں پچیس کے قریب افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی لیکن ملاحوں نے چار خواتین سمیت پینتالیس سے پچاس افراد کو کشتی پر سوار کر دیا جبکہ چھ موٹر سائیکل اس کے علاوہ تھے۔

شہزاد کا کہنا تھا کہ ایک تو کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے دوسرا دوران سفر اس کے انجن کا پنکھا خراب ہوگیا جس سے ملاح کشتی پر قابو نہ رکھ سکے۔

چاچڑاں شریف پولیس چوکی میں ڈیوٹی پر موجود عملے کا کہنا تھا کہ کشتی ڈوبنے کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد میں سے اٹھارہ تیر کر جان بچانے میں کامیاب رہے ہیں جبکہ باقی تیس سے پینتیس افراد لاپتہ ہیں۔

لاپتہ افراد میں سے ایک عورت کی لاش برآمد کرلی گئی جبکہ باقی کے لیے تلاش جاری ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ رات ہوجانے کے باعث امدادی کارروائی کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد