اعتماد کی بحالی میں پیش رفت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ سولہ فروری کی سہ پہر پاکستان کے دفتر خارجہ میں بھارت کے وزیرخارجہ کنور نٹور سنگھ اور ان کے میزبان ہم منصب خورشید محمود قصوری نے باضابطہ مزاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ سرینگر اور مظفرآباد کے بیچ بس سروس سات اپریل سے شروع کی جائے گی۔ اس پریس کانفرنس کے بارے میں توقعات تو پہلے ہی تھیں کہ دونوں ممالک کے ہاں تقسیم شدہ کشمیر کے صدر دفاتر والے شہروں کے درمیاں بس سروس شروع کرنے کا اعلان متوقع ہے۔ اس لیے کافی تعداد میں بھارتی، پاکستانی اور مغربی میڈیا کے نمائندے وہاں موجود تھے ۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل اور بعض نجی چینلز نے پریس کانفرنس براہ راست دکھائی۔ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ اس بس سروس کی بحالی کو محدود دائرے میں نہیں دیھکنا چاہیے بلکہ اس تناظر میں دیکھنا پڑے گا کہ دونوں ممالک کے درمیاں ایک سال سے بھی زیادہ عرصے سے جاری جامع مزاکرات کامیابی کی طرف بڑھے ہیں اور یہ اعلان اس سمت میں اعتماد کی بحالی کا ایک بڑا قدم ہے۔ سرینگر سے مظفر آباد تک بس سروس کی بحالی کے اعلان کا انتظار کشمیریوں کو تو عرصے سے تھا ہی لیکن کشمیریوں سے زیادہ نہیں تو کم منتظر وہ لاکھوں لوگ جو بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کے حامی ہیں، وہ بھی نہیں تھے۔ اس اعلان میں اہم بات یہ بھی ہے کہ بھارت اپنے برسوں پرانے موقف سے پیچھے ہٹا ہے کہ سفری دستاویزات میں پاسپورٹ استعمال نہیں ہوگا بلکہ ایک خصوصی پرمٹ پر ہوگا۔ اس سے بظاہر تو لگتا ہے کہ پاکستان کا موقف مانا گیا لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر بھارت نے ایسا ’اب، کیوں کیا؟ کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جامع مزاکرات کا آئندہ اعلان کوئی ایسا ضرور ہوسکتا ہے جس میں پاکستان کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔ وہ معاملہ بھارت کو افغانستان تک زمینی راستہ فراہم کرنے سے لے کر مسئلہ کشمیر تک کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ جس طرح اعلان ہوا، اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ معاملات کم سے کم بدھ کے روز طے نہیں ہوئے بلکہ اس پہلے کہیں اور اتفاق ہوچکا تھا۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ معاملہ ’بیک چینل ڈپلومیسی، کی سطح پر حل ہوا یا اس میں امریکہ اور برطانیا کا پس پردہ کردار تھا یا پھر بھارت اور پاکستان اپنے طور پر کسی دوستانہ دباؤ کے بغیر راضی ہوئے۔ کنور نٹور سنگھ کے اسلام آباد پہنچنے سے محض ایک دن قبل برطانیا کے وزیرخارجہ جیک سٹرا پاکستان میں تھے اور ان کی پاکستانی قیادت سے بات چیت کا محور بھی بھارت اور پاکستان کے درمیاں مزاکرات ہی تھا۔ جیک سٹرا کو عالمی ذمہ داری کا احساس تو یقینن ہوگا ہی لیکن انہیں آئندہ انتخابات میں اپنی جیت بھی عزیز ہوگی۔جیسا کہ جیک سٹرا نے پریس کانفرنس میں بھی کا تھا کہ ان کے حلقے میں بڑی تعداد کنٹرول لائن کے دونوں جانب کے کشمیریوں کی ہے جو برطانوی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ سرینگر سے مظفرآباد تک بس سروس بحال کرنے کے اس اعلان سے جہاں یہ تاثر پیدا ہوگا کہ چلیں کچھ نہ کچھ تو ہوا وہاں مستقبل کے لیے امیدوں کو ایک جوت پیدا ہوگی۔ یہ شاید اتفاق ہی ہوگا کہ ایک لکیر کے درمیاں برسوں سے بٹے ہوئے کشمیریوں کے متعلق کوئی فیصلہ فروری میں ہی ہوا۔ کیونکہ پاکستان حکومت ہر سال سرکاری طور پر کشمریوں سے اظہار یکجہتی کا دن بھی اس مہینے کی ہی پانچ تاریخ کو مناتی ہے۔ سرینگر اور مظفرآباد کے علاوہ امرتسر سے لاہور تک بس سروس کی بحالی کے اعلان کے بعد بعض سندھی یہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیریوں اور پنجابیوں کی قسمت کھلنے کے بعد اب شاید سندھیوں کی باری آئے اور کھوکھرو پار سے مونا باؤ تک بس اور ریل سروس اور کراچی سے بمبئی تک ’فیری سروس، شروع ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||