اتفاق گروپ کے کارخانے نیلام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ کی مقرر کردہ ایک کمیٹی نے اتفاق گروپ کے چار فولاد کے کارخانوں کو پیر کو تقریبًا ڈھائی ارب روپے میں نیلام کردیا جبکہ دوسری طرف عدالت عالیہ کے ہی ایک جج نے اس نیلامی کو روکنے کے لیے حکم امتناعی بھی جاری کردیا تھا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کا خاندان بھی اتفاق گروپ کا ایک رکن ہے۔ اتفاق گروپ کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کے لیے کارخانوں کی فروخت کا یہ معاملہ تقریبًا دس سال سے کسی نہ کسی وجہ سے لٹکتا چلا آرہا ہے۔ آج ہائی کورٹ کے دو رکنی ڈویژن بینچ کے حکم پر قائم ہونے والی ایک تین رکنی کمیٹی نے نیلامی کے ذریعے ان چار کارخانوں کو کراچی کے ٹاٹا گروپ کو دو ارب اڑتالیس کروڑ روپے کے عوض نیلام کردیا۔ تاہم عدالت عالیہ کے حکم کے مطابق یہ نیلامی اس وقت تک حتمی نہیں ہوگی جب تک عدالت اس کی توثیق نہ کردے۔ اتفاق گروپ نے یہ قرضے انیس سو بیاسی اور انیس سو اٹھاسی کے درمیان لیے تھے جب جنرل ضیاالحق کی حکومت تھی اور نواز شریف پنجاب کے وزیر خزانہ تھے۔ ان کارخانوں میں لاہو میں واقع چار کارخانے ، اتفاق فاؤنڈری کوٹ لکھپت، برادرز اسٹیل کوٹ لکھپت، اتفاق برادرز شاہدرہ اور الیاس انٹرپرائزز بند روڈ شامل ہیں۔ آٹھ بینکوں کا ان کارخانوں کے لیے حاصل کیے گئے قرضہ کی مالیت تین ارب گیارہ کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس قرضہ کا پچاس فیصد نیشنل بینک آف پاکستان نے دیا تھا جبکہ دوسرے بینکوں میں حبیب بینک لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک، الائیڈ بینک، مسلم کمرشل بینک، بینک آف پنجاب، زرعی ترقیاتی بینک، پنجاب مضاربہ اور آئی سی پی شامل تھے۔ دوسری طرف کالونی ٹیکسٹائل ملز اور میاں الیاس معراج نے آج لاہور ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی کہ اس نیلامی کو روکا جائے کیونکہ یہ شفاف نہیں ہے اور ان کارخانوں کے بارے میں تفصیلی معلومات مہیا کیے بغیر انہیں نیلام کیا جارہا ہے اور وہ بھی اس نیلامی میں حصہ لینا چاہتے ہیں جس پر جج حامد شاہ نے نیلامی کو روکنے کا حکم امتناعی جاری کردیا تھا۔ گزشتہ سال جولائی میں بھی اس کمیٹی نے ان کارخانوں کو نیلامی کے بغیر فیصل آباد کے ایک گروپ کو دو ارب پندرہ کروڑ روپے میں بیچنا چاہا تھا۔ اس وقت ہائی کورٹ نے اتفاق گروپ کے سات خاندانوں سے کہا تھا کہ وہ یہ بتائیں کہ کیا وہ اس فروخت سے متفق ہیں جس پر اتفاق گروپ کے سات خاندانوں میں سے صرف ایک خاندان کے فرد میاں الیاس معراج نے ، جو سابق وزیراعلٰی میاں شہباز شریف کے برادر نسبتی بھی ہیں، ان فیکٹریوں کی فروخت پر اپنا اعتراض داخل کیا تھا اور کھلی نیلامی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان بینکوں نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے انیس سو اٹھاسی میں بینکنگ ٹریبیونل سے رجوع کیا تھا۔ ملک میں اس وقت شریف خاندان کی حریف جماعت پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی۔ مارچ انیس سو پچانوے میں بینکنگ ٹریبیونل نے ان قرضوں کی ادائیگی کےلیے شریف خاندان کے خلاف ڈگری جاری کرتے ہوئے اسے پندرہ دنوں میں قرضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس موقع پر بھی شریف خاندان کی حریف بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی۔ شریف خاندان نے بینکنگ ٹریبیونل کے فیصلہ کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا جس نے اثاثوں کو بیچنے اور بینکوں کے قرضے اداکرنے کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی بنا دی تھی۔ جب نواز شریف کی حکومت برطرف کی گئی تو اس کمیٹی نے ان فیکٹریوں اور اثاثوں کا کنٹرول سنبھال لیا اور فیکٹریوں کی گاڑیاں اور کچھ خام مواد تقریبا پچاس لاکھ روپے کے عوض بیچا۔ اتفاق گروپ جن سات خاندانوں پر مشتمل ہے ان میں نواز شریف کے والد میاں شریف اور ان کے چھ بھائی شامل ہیں۔ اس گروپ کی ملکیت میں فولاد، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ اور چینی کے سولہ کارخانے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||