مذہب کا خانہ ، مطالبہ مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے نئے مشین پر پڑھے جا سکنے والے کمپیوٹرائیزڈ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ شامل کرنے کا مذہبی جماعتوں کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست فارم میں مذہب کا خانہ موجود ہے لیکن پاسپورٹ میں ایسا خانہ ضروری نہیں ہے۔ مذہبی جماعتوں نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کیا اور صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ نے حکومت سے باضابطہ طور پر اپیل بھی کی تھی۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کی وجہ سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹوں میں مذہب کا خانہ شامل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق مذہب کا خانہ شامل نہ ہونے سے کوئی بھی خانہ کعبہ اور حرمین شریفین میں داخل ہوسکتا ہے۔ حکومت مذہب کا خانہ ختم کرنے کی وجوہات دنیا بھر میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال بتاتی ہے۔ لیکن متحدہ مجلس عمل کے رہنما الزام لگاتے ہیں کہ قادیانی لابی اس معاملے کے پیچھے سرگرم ہے۔ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد کے مطابق وہ اس معاملے پر احتجاج جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ حکومت نے دو برس قبل جب کمپیوٹرائیزڈ شناختی کارڈوں میں سے بھی مذہب کا خانہ نکال دیا تھا۔ اس وقت بھی مذہبی جماعتوں نے احتجاج کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||