BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 December, 2004, 18:06 GMT 23:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شاہ رخ بادشاہ تومیں ا کّا ہوں‘

 عامر خان
اس ہسپتال کے لیے آئندہ بھی کام کرتا رہوں گا
بالی وڈ کے اداکار عامر خان پاکستانی کرکٹر اور سیاستدان عمران خان کی دعوت پر شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لیے عطیات جمع کرنے کی مہم میں شرکت کے لیے لاہور پہنچ گئے جہاں انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

عامر خان اپنے لمبے لمبے بالوں اور بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ مقامی ہوٹل کے ہال میں پریس کانفرنس کے لیے آئے تو انہیں ایک نظر میں پہچاننا ذرا مشکل تھا۔ انہوں نے کالی ٹی شرٹ پر بھورے رنگ کی جیکٹ پہن رکھی تھی۔

عامر خان سے جب پوچھا گیا کہ بالی وڈ کا سپر اسٹار کون ہے توانہوں نے کہا کہ وہ شاہ رخ خان کا جو بھی انٹرویو دیکھتے اور پڑھتے ہیں اس میں شاہ رخ خان خود کو بالی وڈ کا بادشاہ کہتے ہیں اور انہیں اس بات سے پوا اتفاق ہے کیونکہ وہ خود بالی وڈ کا ا ّکا ہیں۔ تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ وہ ایسا مذاق میں کہہ رہے ہیں۔

عامر خان نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں کے عوام آپس میں محبت چاہتے ہیں اور ہم اعتماد اور یقین کے ذریعےا پنے تعصبات دور کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں انڈیا کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں عوام سے جو محبت اور گرمجوشی ملی اس سے انڈیا کے لوگ بہت متاثر ہوئے۔

عامر خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ کسی ایسی فلم میں کام نہیں کرنا چاہیں گے جس میں کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف تعصب پر مبنی پراپیگنڈہ ہو اور جس سے نفرتیں بڑھیں۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ اگر پاکستان میں انہیں کام کرنے کے لیے کہا جائے اور انہیں کہانی پسند آئے تو وہ یقیناً اس میں کام کرنا پسند کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان میں انڈیا کی فلمیں پسند کی جاتی ہیں انڈیا میں پاکستان کے ٹی وی ڈرامے ، مزاحیہ کھیل اور موسیقی پسند کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ فلمسازی سے دونوں ملکوں کے لوگ ایک دوسرے سے سیکھ سکیں گے۔

عامر خان نے بتایا کہ سینما یا فلم ایک طرح کی کہانی سنانے کا فن ہے جس میں جدید آلات کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ خاصے عرصے سے شوکت خانم ہسپتال کے بارے میں سن رہے تھے اور جب انہیں اس ہسپتال کے لیے عطیہ جمع کرنے کے لیے آنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے بلا جھجک فورا ہاں کردی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس ہسپتال کے لیے آئندہ بھی کام کرتے رہیں گے۔

عامر خان نے کہا کہ وہ اب ایوارڈز کی تقریبوں میں نہیں جاتے کیونکہ انہیں اس میں کوئی اہمیت محسوس نہیں ہوتی اور وہ ان میں جا کر اچھا محسوس نہیں کرتے اور ان کے نزدیک ان کا کوئی مطلب نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ وہ نصرت فتح علی خان کو بہت پسند کرتے ہیں اور وہ ان کے پسندیدہ گلوکار ہیں۔ اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ مہدی حسن اور ندیم ان کے پسندیدہ آرٹسٹ ہیں۔ انہوں نےکہا کہ وہ پاکستان کے مزاحیہ کھیل جیسے معین اختر کے ڈرامے اور عمر شریف کا ’بکرا قسطوں پر‘ دیکھتے ہیں۔

عامر خان نے کہا کہ انہیں ان کے ماں باپ نے اردو سکھانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے نہیں سیکھی۔ اب وہ ممبئی میں ایک اردو کے استاد ابراہیم سے اردو سیکھیں گے اور انیس تاریخ کو پہلا سبق لیں گے۔

عامر خان نے بتایا کہ ان کی والدہ کے خاندان کے آدھے لوگ کراچی میں رہتے ہیں اور ان کے خاندان کے قریبی دوست جن کے ساتھ ان کی پرورش ہوئی کراچی کا فضلی خاندان ہے جو ممبئی میں فلم ساز تھے اس لیے ان کی والدہ کا کراچی سے قریبی تعلق ہے۔ ان کے نانا کراچی سے تھے اور تقسیم کے بیس سال بعد ممبئی آ کر ان کی ماں سے ملے۔ اسی طرح ان کے والد کے فرسٹ کزن لاہور میں رہتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد