رنگیلا سخت علیل ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مزاحیہ فلمی اداکار سعید خان عرف رنگیلا گردوں میں خرابی کے باعث لاہور کے شیخ زائد ہسپتال میں زیرعلاج ہیں جہاں ان کا ڈائلیسز ہورہا ہے۔ شیخ زائد ہسپتال کے ڈاکٹر کامران نے بی بی سی کو بتایا کہ رنگیلا کے گردے اتنے خراب ہوگۓ ہیں کہ انہیں ہفتہ میں دو سے تین دفعہ ڈائلیسز کروانا پڑے گا۔ ڈاکٹر کےمطابق رنگیلا کو پرسوں رات بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا جہاں ان کا ڈائلیسز کیا گیا تو اب ان کی حالت کچھ بہتر ہے اور وہ پرائیویٹ کمرے میں داخل ہیں اور کچھ روز مزید ہسپتال میں رہیں گے۔ ڈاکٹر کامران نے بتایا کہ رنگیلا خاصے عرصے سے گردوں کی خرابی کا شکار ہیں لیکن وہ دوا کا باقاعدگی سے استعمال نہیں کرتے رہے اس لیے ان کی بیماری بڑھ گئی ہے۔ رنگیلا نے پینٹر کے طور پر عملی زندگی کا آغام کیا اور پھر اسٹیج ڈراموں میں آنے لگے۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی کے آغاز میں انہوں نے فلموں میں کام شروع کیا۔ ہدایتکار ایم جے رانا کی فلم جٹی ان کی پہلی فلم تھی۔ ان کی ابتدائی فلموں میں ’گلبدن‘ اور ’گہرا داغ‘ شامل ہیں۔ رنگیلا نے انیس سو انہتر میں ہدایتکار کے طور پر کامیاب فلمیں بنائیں جن میں دیا اور طوفان، رنگیلا، کبڑا عاشق ، صبح کا تارا اور دو رنگیلے جیسی فلمیں ہیں۔ انہوں نے گلوکار کے طور پر بھی یادگار گانے گائے۔ ان کی فلموں میں میری زندگی ہے نغمہ ، اور پردے میں رہنے دو بھی شامل ہیں۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے رنگیلا نے تین شادیاں کی ہیں اور ان کے ایک بیٹے نے چند فلموں میں ادکار کے طور پر کام بھی کیا اور ان کی بیٹی فرح دیبا سمن آباد کے علاقہ سے مقامی کونسلر ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||