پشاور میں نان بائیوں کی ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں سنیچر کی صبح لوگوں نے ناشتہ روٹی سے نہیں بلکہ ڈبل روٹی سے کیا۔ اس کی وجہ ضلع پشاور کے نانبائیوں کی جانب سے غیرمعینہ مدت کے لئے ہڑتال پر جانا ہے۔ پشاور میں ضلعی حکومت اور نانبائیوں کے درمیان روٹی کی قیمت اور وزن کا تنازعہ رمضان کے بعد سے سنگین صورت اختیار کرگیا تھا۔ پشاور میں چند روز پہلے تقریبا چودہ سو نانبائیوں نے مقامی حکومت کا مقرر کردہ ایک سو تیس گرام روٹی کا دو روپے نرخ مسترد کرتے ہوئے ایک سو اسی گرام کی روٹی چار روپے میں فروخت کرنا شروع کر دی تھی۔ اس حکم عدولی کا نوٹس لیتے ہوئے مقامی حکومت نے روٹی پر پابندی عائد کردی جس کے خلاف نانبائی غیرمعینہ مدت کی ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ نانبائیوں کا موقف ہے کہ آٹے اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ان کے لئے سنگل روٹی اس نرخ پر فروخت کرنا ممکن نہیں۔ تندور ٹھنڈے ہونے کی وجہ سے آج پشاور میں بیکری میں تیار ہونے والی ڈبل روٹی بھی کم پڑ گئی۔ ادھر ضلع پشاور کے ناظم اعظم آفریدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پشاور میں آٹے کی گرانی کے ذمہ دار وہ نہیں ہیں۔ ’تندوری روٹی کی قیمت اور وزن مقرر کرنا میرا فرض ہے وہ میں نے پورا کر دیا۔آٹے کی قیمت میں کم نہیں کرا سکتا۔ جس دن لوگ روٹی کی بڑھتی قیمت کے خلاف سڑکوں پر آئیں گے میری ذمہ داری دوبارہ شروع ہوجائے گی۔‘ انجمن نانبائیان کے سربراہ محمد اقبال کا ضلعی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ آٹے کی قیمت کم کرائے تو وہ اپنی ہڑتال ختم کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایک سو تیس گرام روٹی وہ اس وقت فروخت کرتے تھے جب آٹے کی بوری انہیں ایک ہزار روپے کی ملتی تھی۔ اب یہ بوری تیرا سو میں دستیاب ہے۔ اس نرخ پر ان کے لئے روٹی تیار کرنا ممکن نہیں۔ ماضی میں بھی روٹی کے وزن کے مسئلے پر مقامی انتظامیہ اور نانبائیوں کے درمیان تنازعات کھڑے ہوتے رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ کی یہ جنگ کتنا طول پکڑتی ہے اور اس کے نتیجے میں خریداروں کو کیسی روٹی کس نرخ پر ملتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||