سرحد میں’ سڑکوں کے جال‘ کا منصوبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے شمالی صوبہ سرحد میں سڑکوں کا’نیٹ ورک‘ بہتر بنانے کے لیے تیس کروڑ بارہ لاکھ ڈالر کا قرضہ منظور کرلیا ہے۔ بینک کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد وسطی ایشیا کی ریاستوں، افغانستان، گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں تک موثر زمینی رابطے کے لیے سڑکوں کا جال بچھانا اور صوبے کے اندر سڑکوں کی تعمیر اور پہلے سے موجود سڑکوں کی حالت بہتر بنانا ہے۔ ایشیائی بینک کے ملکی ڈائریکٹر معشوق علی شاہ کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت دو سو بارہ کلومیٹر صوبائی شاہراہوں کو بہتر کیا جائے گا اور دیہی علاقوں کی شہروں تک آسان رسائی کے لیے سات سو کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی جائیں گی اور موجودہ سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جائے گی۔ دیگر علاقوں سے صوبے کے موثر رابطے کے لیے قومی شاہراہوں کی بہتری سمیت، افعانستان تک رسد کے لیے کم از کم دو سرحدی داخلہ مراکز کا قیام اور بہتری بھی اس منصوبے کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ سڑکوں کی بہتری اور تعمیر کے اس منصوبے کے بعد شمالی افغانستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں سے بڑے پیمانے پر ٹریفک طورخم سے پاکستان میں داخل ہوسکے گی اور بہتر سڑکوں کے ذریعے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں تک ان کی آمدو رفت آسان ہوجائے گی۔ بینک کے مطابق جہاں نو لاکھ لوگوں کو براہ راست اس منصوبے سے مختلف فوائد حاصل ہوں گے وہاں بیاسی ہزار لوگوں کے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ غربت اس صوبے میں ہے جہاں اڑسٹھ فیصد لوگوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر نہیں ہے۔ صوبہ سرحد کے لیے سڑکوں کا شروع ہونے والا یہ منصوبہ دو ہزار دس میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||