پولیس مقابلہ، مبینہ دہشتگرد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس حکام کے مطابق امریکی صحافی ڈینیل پرل کے کیس میں ملوث مبینہ دہشت گرد عاصم غفور کراچی کے علاقے سعیدآباد میں ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ عاصم غفور کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ امجد فاروقی کا ساتھی تھا۔ امجد فاروقی پر صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملوں کا الزام تھا اور وہ پچھلے سال ایک پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔ بدھ کی صبح کراچی کےسول ہسپتال میں پولیس کی طرف سے ایک لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لائی گئی جس کا اندراج عاصم غفور کے نام سے کرایا گیا تھا۔ پولیس نے ہسپتال کے ذرائع کو اس شخص کے بارے میں تفصیل فراہم کرتے ہوئے کہا کہ عاصم غفور نامی یہ شخص ایک ملزم تھا جو پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ پولیس نے اپنے بیان میں کہا ’ پولیس نے اس ٹھکانے پر چھاپہ مارا جہاں عاصم موجود تھا اور اس نے پولیس پر گولیاں چلادیں۔ جواب میں پولیس کو بھی فائرنگ کرنا پڑی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا‘۔ بعد ازاں ڈی آئی جی سی آئی ڈی نے اس بات کی تصدیق کی کہ مارا جانے والا شخص عاصم غفور مبینہ دہشت گرد امجد فاروقی کا قریبی ساتھی تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق عاصم غفور کا تعلق بھی کالعدم مذہبی تنظیموں جیش محمد اور حرکت المجاہدین سے تھا۔ پولیس کے مطابق عاصم غفور امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے کیس میں مطلوب تھا ۔ یاد رہے کہ عاصم غفور، امجد فاروقی کی ہلاکت کے بعد سے روپوش تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصم غفور سکھر کا رہنے والا تھا اور اس کی عمر پچیس سے تیس برس کے قریب تھی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق عاصم غفور کی لاش اس کے گھر والوں کے حوالے کر دی گئی ہے جو اسے دفنانے سکھر لے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||