BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 November, 2004, 02:47 GMT 07:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان نہ آنے کا فیصلہ درست تھا‘

نواز شریف
متحدہ مجلس عمل کے رہنمااور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نےمعزول وزیر اعظم میاں نواز شریف کے اپنے والد میاں شریف کی میت کے ساتھ پاکستان نہ آنے کا فیصلے کو درست قرار دیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مشروط واپسی ان کے شایان شان نہیں تھی اور وہ جب بھی وطن آنے کا فیصلے کریں یہ سوچ کر کریں کہ انہیں پھر دوبارہ بیرون ملک نہیں جانا۔

یہ بات انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں میاں شریف کی رسم قل کے موقع پر اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوۓ کہی۔

انہوں نے کہاکہ ’وہ اس وقت واپس لوٹیں جب پاکستان میں حکومت کے خلاف تحریک چل رہی ہو سب لوگ ان کا استقبال کریں اور ان کے آنے کے بعد اس ملک سے فوجی آمریت کاخاتمہ ہوجاۓ ‘

میاں شریف کی تدفین کے موقع پر ان کی جلا وطن اولاد کا میت کے ساتھ نہ آسکنا ان دنوں پاکستان میں بحث کا موضوع بنا ہواہے۔

کچھ حلقوں کاخیال ہے کہ شریف برادران کو سیاسی مصلحت اور انا سے بالاتر ہوکر والد کی میت کے ساتھ آنا چاہیے تھا خواہ اس کے لیے انہیں حکومت کی کچھ ہی تسلیم کرنا پڑتیں۔

جبکہ بعض حلقے اس معاملے کو حکومت کی سخت ناانصافی اور شریف برادران کو بےبس اور مظلوم قرار دیتے ہیں۔

اسی موقع پر مسلم لیگ کے ایک مرکزی رہنما راجہ ظفر الحق نے وضاحت کی کہ میاں نواز شریف نے انہیں بتایا ہے ’ پاکستانی سفیر نے انہیں کوئی مشروط پیش کش نہیں کی تھی بلکہ واضح الفاظ میں کہا تھا کہ پاسپورٹ اور ٹکٹ کی کوئی بات نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ انہیں یعنی نواز شریف ، کلثوم نواز اور شہباز شریف کو میت کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں ہے‘۔

سلمان شہباز نے کہا کہ ان کے داد میاں شریف کی میت لحد میں اتارنے سے صرف پندرہ منٹ پہلے ان کے حوالے کی گئی ۔

اس سے پہلے وہ بار ہا کہتے رہےکہ ان کی وصیت کے مطابق ان کی میت کو داتا دربار لے جانے دیا جاۓ لیکن حکمران نہیں مانے انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس رویہ نے شریف خاندان کے دکھ میں اضافہ کیا ہے

میاں نواز
تدفین کے موقع پر ان کی جلا وطن اولاد موجود نہیں تھی

رسم قل کے موقع پر تعزیت کے لیے آنے والوں سے میاں شریف کے صرف دو پوتے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز ہی ملاقات کر رہے تھے۔

دونوں بھائی پنڈال میں داخلے کے الگ الگ دروازوں پر کھڑے ہوگئے تھے اور ہر آنے والے مہمان سے ملاقات کر رہےتھے۔

یہ مذہبی تقریب ماڈل ٹاؤن میں شریف خاندان کے گھروں کے سامنے ایک میدان میں منعقد ہوئی۔

اس تقریب میں اے آر ڈی اور ایم ایم اے کی قیادت نے تو شرکت کی ہی تھی اس کے علاوہ بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچی جس سے تقریبا پورا میدان بھرگیا تھا حاضرین کی تعداد پانچ سے سات ہزار کے درمیان تھی۔

مہمانوں میں سابق آئی جی سندھ رانا مقبول بھی تھے جو میاں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی گرفتار کرلیے گئےتھےاور وعدہ معاف گواہ بننے پر رہا ہوۓتھے ۔

دوسرے قابل ذکر مہمان موجودہ حکومت کا حصہ اور سابق صدر فاروق لغاری تھے جو رسم قل شروع ہونے سے پون گھنٹہ پہلے آۓ اور حمزہ اور سلمان سے چند لمحوں کی ملاقات کے بعد فوری چلے گئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد