عمران خان راہزنوں سے لٹ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق کرکٹر اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو جمعہ کی شام اسلام آباد میں نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر لوٹ لیا۔ یہ بات تحریک انصاف کے مرکزی اطلاعات سیکریٹری اکبر ایس بابر نے جاری کردہ ایک بیان میں بتائی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان اپنے دو بیٹوں، ان کی آیا اور چند دوستوں کے ہمراہ بنی گالہ میں زیر تعمیر اپنے مکان کا معائنہ کرکے واپس آرہے تھے کہ راستے میں انہیں لوٹ لیا گیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ ایک سوزوکی مہران کار نے عمران خان کی کار کو اچانک اوور ٹیک کیا اور اس میں سے دو مسلح افراد سڑک کے بیچ گاڑی روک کر باہر آئے اور اسلحہ کے زور پر عمران خان سے بٹوا، کریڈٹ کارڈ، کیمرا اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹ کر فرار ہوگئے۔ اکبر ایس بابر کے مطابق عمران خان کے ہمراہ چند دوست بھی تھے جو دوسری گاڑی میں تھے البتہ ان کے بچوں کی آیا ان کے ہمراہ گاڑی میں موجود تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل ڈھکے چھپے انداز میں عمران خان کو حزب مخالف سے علیحدگی اختیار کرنے کی دھمکیاں بھی ملی تھیں لیکن ان کی تفصیلات انہوں نے نہیں بتائی۔ عمران خان کو جس جگہ لوٹا گیا وہ کس تھانے کی حدود میں ہے یہ رات گئے تک طے نہیں ہوا تھا جس وجہ سے مقدمہ بھی درج نہیں ہو سکا۔ تھانہ سیکریٹریٹ کے ڈیوٹی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ متعلقہ حد تھانہ بارہ کہو کی ہے۔ لیکن جب تھانہ بارہ کہو فون کرکے پوچھا کہ کیا بنی گالہ ان کی حدود میں آتا ہے تو محرر اظہر اقبال نے کہا جی ہاں۔ لیکن جب عمران خان کے لوٹنے کا مقدمہ درج کرنے کے متعلق ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ جگہ تھانہ سیکریٹریٹ کی حدود میں ہے اور دونوں تھانوں کے افسران ابھی حدود کے تعین پر بات کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے ایک امیر خاندان سے تعلق رکھنے والی جمائما خان سے عمران خان نے پسند کی شادی کی تھی جو حال ہی میں ٹوٹ گئی اور جمائما انہیں چھوڑ کر لندن چلی گئیں ہیں۔ جمائما سے عمران کے دو بیٹے ہیں جو آج کل باپ کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ عمران خان اپنی جماعت کے واحد رکن قومی اسمبلی بھی ہیں۔ وہ ابتدا میں صدر جنرل پرویز مشرف کے حامی تھے لیکن آج کل بڑھ چڑھ کر ان پر کڑی نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں۔ یہ اتفاق ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے پولیس سربراہ فیاض احمد خان طورو کو جمعہ کے روز ہی اپنے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ انہیں ہٹانے کی وجہ سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق جرائم پر قابو پانے میں ناکامی بتائی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||