BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 October, 2004, 20:08 GMT 01:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرک نے تین بچیوں کوکچل دیا

فائل فوٹو: پولیس کی گاڑی
فائل فوٹو: پولیس کی گاڑی
لاہور کے شمالی علاقے شاد باغ میں ایک ٹریفک حادثے میں تین کمسن بہنیں اور ان کے ماموں ہلاک ہوگئے جس کے بعد علاقے میں ہنگامے پھوٹ پڑے، ٹرک کو نذر آتش کر دیا گیا، توڑ پھوڑ کی گئی، پولیس نے لاٹھی چارج کیا، ہوائی فائرنگ کی اور آنسو گیس کے شیل چلائے۔

شاد باغ کے رہائشی ادریس موبل آئل کے ایک چھوٹے سے تاجر ہیں اتوار کی سہ پہر پانچ بجے ان کی سالے غلا م شبیر گھر سے دودھ لینے کے لیے نکلے تو ادریس کی تین بچیاں چھ سالہ عطرت، چار سالہ اقصیٰ اور دو سالہ رضیہ بھی ضد کر کے اپنے ماموں کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ گئیں۔

بند روڈ پر ایک تیز رفتار ٹرک نے انہیں کچل دیا جس سے تینوں کمسن بہنیں اور ان کے ماموں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ مقامی لوگ اس حادثے کے بعد مشتعل ہوگئے انہوں نے ٹرک کو نذر آتش کر دیا اور ڈرائیور کو پکڑ کر اس کی پٹائی کی اس دوران پولیس اہلکار موقع پر پہنچے۔

انہوں نے ڈرائیور کو چھڑا کر بھاگ جانے کو کہا لیکن مشتعل مکینوں نے انہیں دوبارہ پکڑ لیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا اس بار تشدد اس قدر زیادہ تھا کہ اس کی ہلاکت کا خطرہ تھا۔

عینی شاہدوں کے مطابق پولیس نے ہوائی فائرنگ کر کے اسے چھڑایا اور اپنی حراست میں تھا نے بھجوا دیا۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر بند روڈ پر ٹریفک بلاک کردی ۔ اس دوران مظاہرین نے توڑ پھوڑ بھی کی اور متعدد گاڑیوں پر لاٹھیاں برسا کر ان کے شیشے توڑ ڈالے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور بھاری مال بردار گاڑیاں اکثر حادثات اور انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا سبب بنتی ہیں۔

پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کے شیل چلائے لیکن لوگ منتشر نہ ہوئے جس پر پولیس بچیوں کے والد ادریس کو بلا کر لائی۔ ادریس پہلے تو اپنی بچیوں کی لاشیں دیکھ کر شدت غم سے سڑک پر گرگئے پھر انہوں نے مظاہرین کو کہا کہ ان کی بیٹیاں تو مرگئی ہیں وہ صبر کریں اور عام لوگوں کو تکلیف نہ دیں۔

ادریس کی تین بیٹیوں کے سوا اور کوئی اولاد نہیں ہے۔ ڈی ایس پی خالد مسعود نے بتایا کہ رات گئے حالات قابو میں آگئے اور پولیس نے بچیوں کے والد کے بیان پر ٹرک کے ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد