ملک بھر میں سخت سکیورٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان میں جمعہ کی نماز کے بعد رشید آباد میں بم دھماکے کے خلاف سینکڑوں افراد نے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس میں شریک مظاہرین نے شہر میں مختلف مقامات پر ٹائروں کو آگ لگا کر ٹریفک کو معطل کرنے کی کوشش کی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ ان مظاہرین کو پرامن طور پر منتشر کرنے میں کامیاب ہو گئی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ درین اثناء سیالکوٹ اور ملتان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد پورے ملک میں جمعہ کو پولیس اور قانون نفاذ کرنے والے اداروں کوانتہائی چوکس کر دیا گیا تھا۔ ملتان میں جمعہ کو فوج نے گشت کیا اور جمعہ کے اجتماعات میں دہشت گردی کے واقعات کے خدشے کے پیش نظر تمام مساجد پر پولیس کو تعینات رہی۔ تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں جمعہ کے اجتماعات پولیس کے پہرے میں ہوئے۔ جمعرات کو وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو نماز کے علاوہ تمام مذہبی اجتماعات اور جلسے اور جلوسوں پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ جمعرات کی صبح ملتان میں مولانا اعظم طارق کی برسی کے سلسلے میں ہونے والے اجتماع کے موقعہ پر کار بم دھماکے میں 39 افراد ہلاک اور ستر کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے سیالکوٹ میں مرکزی امام بارگاہ میں جمعہ کی نماز کے دوران بم دھماکے میں 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||