آتش بازی میں ایئر لائن کا اہلکار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں چیرمین سینٹ میاں محمد سومرو کے اعزاز میں ہونے والی آتش بازی کی زد میں آکر مقامی آئر لائن کے جنرل منیجر ہلاک ہوگئے۔ اس تقریب کا اہتمام لاہور ایوان صنعت و تجارت کے ذیلی ادارہ براۓ بحالی معذوراں نے کیا تھا۔ قدیم حویلی آصف جاہ میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں چئیر مین سینٹ مہمان خصوصی تھے۔ سنیچر کی رات ان کی تقریر کےختم ہوتے ہی تقریب کی انتظامیہ نے آتش بازی شروع کر دی اس دوران ناریل کے حجم کے برابر ایک جلتا ہوا خول سٹیج کے نزدیک بیٹھے ائروایشیا لاہور کے جنرل منیجر کے سر پر آکر لگا جس سے وہ گرگئے جبکہ ان کی میز کو آگ لگ گئی۔ چیئر مین سنیٹ فوری طور پر تقریب سے چلے گئے جبکہ زخمی کو بے ہوشی کے عالم میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں کئی گھنٹے تک بے ہوش رہنے کے بعد وہ دم توڑ گئے ان کی لاش تدفین کے لیے ان کے آبائی شہر سوہدرہ روانہ کر دی گئی ہے۔ لاہور پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ ان دنوں بھی لاہور میں آتش بازی کا سامان بنانے اور اس کی فروخت پر پابندی عائد ہے۔ پنجاب میں آتش بازی کے سامان پھٹنے کے جان لیوا واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور خاص طور پر لاہور اور اس کے گرد ونواح میں ہر سال متعدد افراد اس نوعیت کے واقعات میں جاں بحق ہوتے ہیں اکثر انتظامیہ آتش بازی پر پابندی بھی عائد کرتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کی تیاری اور استعمال میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی۔ تین ہفتے قبل گجرات کے نواحی علاقے جلالپور جٹاں میں آتش بازی کا سامان پھٹ جانے سے ایک ہی خاندان کے کم ازکم پانچ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس سے قبل لاہور کے نواح میں ایسے ہی واقعہ میں ایک کمسن بچی سمیت دو افراد جاں بحق ہو ئے تھے۔ ان دونوں واقعات کےایکسپلوژو ایکٹ کے تحت مقدمات بھی درج ہوئےتھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آتش بازی کی جان لیوا حادثات کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی تیاری اور مظاہرے کرنے والے افراد مناسب تربیت اور علم نہیں کررکھتے اور اس کے علاوہ اس سلسلے میں مروجہ قوانین اور اصول و ضوابط کی پابندی بھی نہیں کی جاتی ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||