BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 September, 2004, 11:20 GMT 16:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امجد فاروقی کون تھے؟
امجد حسین فاروقی
اس سال کے آغاز پر حکام نے امجد فاروقی کو انتہائی مطلوب شخصیت قرار دیا تھا
تیس سالہ امجد حسین فاروقی جنہیں پاکستان کی سکیورٹی افواج نے اتوار کے روز گولی مار کر ہلاک کردیا، پاکستان کی مطلوب ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔

ان کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے ساتھی اور پاکستان میں شدت پسندوں اور القاعدہ تنظیم کےدرمیان اہم رابطہ تھے۔

امجد حسین فاروقی کو مئی 2002 کراچی کے شیرٹن ہوٹل کے نزدیک کیے جانے والے حملوں کے علاوہ امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل اور صدر مشرف پر کیے جانے والے قاتلانہ حملوں سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔

اس سال کے آغاز پر حکام نے امجد فاروقی کو انتہائی مطلوب شخصیت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی گرفتاری ملک میں شدت پسند عناصر اور القاعدہ کی کارروائوں کو روکنے میں اہم ثابت ہوگی۔ حکام کے مطابق امجد مختلف نام استعمال کرتے رہے ہیں جن میں امتیاز فاروقی، حیدر اور منصور شامل ہیں۔

ان کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی افواج نے کئی افراد کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ گرفتاریاں نہ صرف شدت پسندی کے خلاف پاکستانی افواج کی مہم میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ کے لیے بھی اہم ہیں۔

امجد فاروقی کا تعلق ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک گاؤں سے بتایا جاتا ہے۔ اس گاؤں کا کوئی نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک نمبر سے جانا جاتا ہے۔

گاؤں کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ امجد نے 1988 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے عسکریت پسندی کا آغاز کیا۔ اس وقت ان کی عمر بیس سال کے قریب تھی۔ اس کے بعد وہ افغانستان میں القاعدہ کے ارکان کے ساتھ اسامہ بن لادن کے زیر تربیت رہے۔

دس سال کے عرصے میں بطور جہادی انہوں نے اپنے ہی گاؤں کے دو سو کے قریب افراد کو بھرتی کیا جنہوں نے 2001 میں افغانستان میں امریکی فوج کے ہاتھوں طالبان حکومت کے خاتمے کے خلاف مزاحمت کی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے نوجوانوں کو خودکش حملوں کی طرف بھی مائل کیا۔

انہیں کئی کالعدم قرار دی گئی تنظیموں سے بھی منسوب کیا جاتا ہے جن میں حرکت الجہاد الاسلامی اور جیش محمد شامل ہیں۔

مقامی افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ امجد فاروقی مولانا اظہر مسعود کے ذاتی محافظ بھی رہ چکے ہیں جوکہ جیش محمد کے سربراہ تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری کے لیے کراچی ، فیصل آباد اور کوئٹہ میں حالیہ دنوں میں چھاپے مارے جاتے رہے ہیں تاہم انہیں اتوار کے روز نواب شاہ میں سکیورٹی اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ امجد نے زندہ گرفتاری دینے سے انکار کردیا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد