BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اغواء سے اسلام قبول کرنے تک
رڈلی
’میری والدہ خوش ہیں کیونکہ میں نے شراب پینی بند کردی‘
اگر طالبان آپ سے امریکی جاسوسی کے شبہ میں پوچھ گچھ کر رہے ہوں تو اس کا خوشگوار انجام ہونے کا تصور مشکل ہے ۔

لیکن صحافی ایوان رڈلی کی افغانستان میں قید، ان کے تبدیلیِ مذہب کا سبب بنی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام دنیا میں سب سے بڑا اور بہترین کنبہ ہے۔

ایوان رڈلی نے جو ایک دور میں شراب نوشی کی بہت شوقین تھیں، طالبان کی قید سے رہائی اور قران پاک کے مطالعے کے بعد اسلام قبول کر لیا۔

اب وہ ریڈیکل مذہبی رہنما ابو حمزہ المصری کو ’ایک اچھا انسان‘ قرار دیتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ طالبان کو غیر منصفانہ طور پر دبایا گیا ہے۔

ستمبر 2001 میں رڈلی اس وقت افغانستان گئی تھیں جب وہ سنڈے ایکسپریس کے لئے بطور رپورٹر کام کرتی تھیں۔

سفر کے دوران ایک دن وہ پکڑی گئیں اور ان کے پاس سے کیمرہ برآمد کیا گیا جس پر پابندی تھی۔ رڈلی سے مسلسل دس دن تک پوچھ گچھ کی گئی اور انہیں ٹیلی فون تک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔

46 سال کی رڈلی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ اس بیماری کا شکار ہیں جس کے اثر میں یرغمالی اغوا کرنے والے کا ساتھی بن جاتا ہے۔

لیکن رڈلی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اغوا کرنے والوں کے ساتھ بہت بدتمیزی سے پیش آتی تھیں۔ ان کے منہ پر تھوکا اور کھانا کھانے سے انکار کیا بلکہ طالبان سے رہائی کے بعد ہی اسلام میں ان کی دلچسپی پیدا ہوئی۔

رڈلی نے بتایا کہ طالبان کے نائب وزیر داخلہ کو اس وقت ان کے پاس آنا پڑا جب انہوں نے قید خانے کی الگنی سے اپنا انڈر ویئر اتارنے سے انکار کر دیا جو طالبان فوجیوں کے کوارٹرز سے دکھائی دیتی تھی۔

نائب وزیر نے کہا ’دیکھو اگر فوجی اس طرح کی چیزیں دیکھیں گے تو انکے دل میں برے خیال پیدا ہوں گے‘۔

’افغانستان پر دنیا کا امیر ترین ملک حملہ کرنے والا تھا اور وہ میرے کالے اور بڑے سے انڈرویئر سے پریشان تھے۔‘

News image
’اسلام میں خواتین کو مساوی حقوق دیئے گئے ہیں‘

مجھے لگا کہ امریکہ کو طالبان پر بم برسانے کی کوئی ضرورت نہیں صرف عورتوں کی رجمنٹ کے ایک دستے کو ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر بھیج دے جو اپنے انڈر ویئر لہراتی ہوئی گزر جائیں تو سارے طالبان خود ہی وہاں سے بھاگ جائیں گے۔

برطانیہ واپس آنے کے بعد رڈلی نے اپنے تجربات کو سمجھنے کے لئے قران کا مطالعہ کیا۔ ان کا کہنا تھا جو کچھ بھی پڑھا اس سے وہ حیران ہو گئیں 1400 سال بعد بھی قران کا ایک لفظ تو کیا ایک نکتہ بھی نہیں تبدیل کیا گیا۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ان کے والدین ان کے اس فیصلے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’ابتداء میں میرے گھر والوں اور دوستوں کا رویہ خوفناک تھا لیکن اب وہ سب دیکھ سکتے ہیں کہ میں کتنی خوش، صحت مند اور مطمئن ہوں‘۔

’میری والدہ خوش ہیں کیونکہ میں نے شراب پینی بند کر دی۔‘

اسلام میں عورتوں کا کیا مقام ہے اس بارے میں رڈلی کا کہنا ہے کہ ’مسلم ممالک میں عورتوں پر ظلم ہوتا ہے، ان کو دبا کر رکھا جاتا ہے لیکن میں آپ کو مغربی ملکوں کے گلی کوچوں میں بھی لےجا کر عورتوں پر ظلم کے نظارے دکھا سکتی ہوں‘۔

’ظلم کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ یہ ایک تہذیب اور ماحول ہوتا ہے۔ قران یہ بات شیشے کی طرح صاف اور واضح کرتا ہے کہ عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔‘

رڈلی کی تین شادیاں ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی نوجوانی کی عمر کے بعد اب پہلی مرتبہ وہ بوائے فرینڈ یا شوہر کی خواہش محسوس نہیں کر رہیں اور نہ ہی اب انہیں کسی مرد کے فون کا انتظار رہتا ہے۔

ہاں انہیں صرف ایک مرد کا فون آیا اور انہیں یہ فون کیا تھا شمالی لندن کی ایک مسجد سے ابو حمزہ المصری نے انہوں نے کہا ’مبارک ہو ایوان بہن اسلام میں آپ کا خیر مقدم ہے‘۔

’میں نے یہ واضح کیا کہ ابھی تک میں نے باقاعدہ اسلام قبول نہیں کیا‘ تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی جلد بازی سے کام نہ لیں۔اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو پوری قوم آپ کے ساتھ ہے۔ مجھے یقین نہیں آیا کہ یہ فنزبری پارک مسجد کے وہی شعلہ بیاں مبلغ ہیں کیونکہ وہ مجھ سے بہت احترام اور پیار سے بات کر رہے تھے‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد