BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 September, 2004, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو کروڑ درخت ہر سال کٹ جاتے ہیں

News image
پنجاب میں ہر سال دو کروڑ درخت کاٹے جاتے ہیں۔
پنجاب میں ہر سال دو کروڑ درخت کاٹے جاتے ہیں جن میں زیادہ تر ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور کچھ ٹمبر مافیا چوری کرلیتی ہے۔

فوج نے بھی ضلع خانیوال میں دو ہزار ایکڑ کے جنگل کی زمین اسلحہ ڈپو بنانے کے لیے حاصل کی۔ یہ بات آج پنجاب اسمبلی کو جنگلات پر سوال و جواب کے دوران میں صوبائی وزیر جنگلات مخدوم اشفاق نے بتائی۔

رکن اسمبلی مخدوم مختار شاہ نے نکتہ اٹھایا کہ ضلع خانیوال میں محکمہ جنگلات اور جی ایچ کیو کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت فوج نے پیرووال میں دو ہزار ایکڑ زمین حاصل کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس پر ماڈل جنگل اگائے گی۔

تاہم اس نے جنگل لگانے کے بجائے اس زمین پر پہلے سے موجود اربوں روپے مالیت کے شیشم کے درخت کاٹ کر بیچ دیئے اور وہاں کاشتکاری کے لیے زمین ٹھیکے پر دے دی اور آہستہ آہستہ سات ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کرلیا۔صوبائی وزیر بتائیں اس ساری آمدن کا حساب کہاں ہے؟

صوبائی وزیر نے کہا کہ زمین محکمہ مال کی تھی اور اس نے فوج کو دی اور فوج نے زمین ماڈل جنگل کے لیے نہیں بلکہ اسلحہ ڈپو بنانے کے لیے لی تھی اور یہ اس کے زیراستعمال ہے اس لیے اس کا حساب بھی اسی کے پاس ہے۔

وزیر جنگلات نے ایوان کو بتایا کہ جتنے درخت کاٹے جاتے ہیں اس کی جگہ اتنے ہی درخت لگائے جاتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ درخت لگانے کے لیے بہت سی اسکیمیں چل رہی ہیں جن پر ترقیاتی بجٹ سے پیسہ خرچ کیا جاتا ہے اور کچھ اسکیمیں اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارہ یو این ڈی پی کے تعاون سے چل رہی ہیں۔

صوبائی وزیر جنگلات نے ایوان کو بتایا کہ یو این ڈی پی کے تعاون سے ایک نئی اسکیم شروع کی جارہی ہے جس کے تحت جنگلات کے علاقہ میں رہنے والے لوگوں کو گیس کے چولہے اور سلنڈر فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ ایندھن کے لیے درخت نہ کاٹیں۔

ایک رکن اسمبلی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ حکومت نے زیادہ تر سفیدے کے درخت لگائے ہیں جبکہ ان سے نقصان ہورہا ہے کیونکہ انکی مخصوص خوشبو کے باعث پرندے ان پر نہیں بیٹھتے جس سے جنگلی زندگی ختم ہورہی ہے اور دوسرے ان کی لکڑی کاغذ بنانے کے کام نہیں آتی۔

اس پر صوبائی وزیر زراعت ارشد لودھی نے کہا کہ حزب مخالف کے جو لوگ سفیدے کے درختوں پر اعتراض کررہے ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان درختوں کو لگانے کی سب سے زیادہ مہم پیپلز پارٹی کے دور میں آصف زرداری نے بین الاقوامی فنڈز لے کر چلائی تھی۔

صوبائی وزیر جنگلات نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت زرعی زمینوں پر فی ایکڑ تین درخت تھے جبکہ اب فی ایکڑ سات درخت موجود ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد