تین سو ستر پشاور پہنچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں رہائی پانے والے تین سو سے زائد پاکستانی قیدی پشاور پہنچ گئے ہیں۔ انہیں تفتیش کے لئے سینٹرل جیل پشاور میں رکھا گیا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں اتوار کے روز کابل کی پل چرخی جیل سے رہائی پانے والے تین سو تریسٹھ پاکستانی قیدی سڑک کے راستے رات گئے اڑھائی بجے پشاور پہنچے۔ انہیں حسب معمول سینٹرل جیل پشاور منتقل کیا گیا جہاں حکام کا کہنا ہے کہ مختلف ایجنسیوں اور اداروں کے اہلکاروں پر مشتمل تفتیشی ٹیم آئندہ چند روز میں اس سے پوچھ گچھ کر کے انہیں اپنے اپنے علاقوں کو منتقل کر دے گی۔ رہائی پانے والوں میں اکثریت کا تعلق صوبہ پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔ وہ صحت مند اور انتہائی خوش نظر آ رہے تھے۔ اکثر کی داڑھیاں تھیں اور وہ نئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ان میں اکثر نے تقریبا تین سال افغانستان میں قید کاٹی ہے۔ بائیس سے لے کر ساٹھ سال کی عمر کے ان قیدیوں کو افغانستان کے مختلف علاقوں کی قلعہ جنگی اور شبرغان جیسی بدنام جیلوں سے پل چرخی گزشتہ دنوں منتقل کیا تھا۔ ان پاکستانیوں میں اکثریت افغانستان میں طالبان حکومت کے دفاع کے لئے نومبر دو ہزار ایک میں ہمسایہ ملک گئے تھے۔ اس سے قبل بھی سینکڑوں پاکستانی رہائی پا کر وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔ اس تازہ رہائی کے بعد کتنے پاکستانی افغان جیلوں میں باقی ہیں اس بارے میں درست اعداد و شمار واضع نہیں لیکن خیال ہے کہ ان کی تعداد ابھی بھی سینکڑوں میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||