BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 September, 2004, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نشریاتی تنازعہ، کرکٹ بورڈ پریشان

News image
ٹین سپورٹس اور اے آر وائی کے درمیان اختلافات اور معاملہ عدالت میں چلے جانے کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو سخت پریشانی لاحق ہوگئی ہے کیونکہ یہ دونوں مشترکہ طور پر پاکستان میں کرکٹ کی کوریج کے مجاز ہیں۔

کرکٹ بورڈ کی پریشانی اس لیے بھی زیادہ ہے کہ پاکستان میں اسی ماہ انٹرنیشنل کرکٹ کی سرگرمیاں شروع ہونے والی ہیں جن میں پاکستان زمبابوے اور سری لنکا کے درمیان سہ فریقی ون ڈے سیریز اور پاکستان سری لنکا ٹیسٹ سیریز شامل ہیں۔

ٹین سپورٹس اور اے آر وائی نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے نشریاتی حقوق کا پانچ سالہ معاہدہ کررکھا ہے جس کی مالیت43 ملین ڈالرز ہے لیکن دونوں ٹی وی چینلز کے باہمی اختلافات کا حل بظاہر اب عدالت میں ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے ہوم سیریز کے تمام انتظامات کرنے ہیں۔ کرکٹ بورڈ کے ترجمان عباس زیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے میں غیرجانبدار رہے گا حالانکہ عدالت میں اسے بھی فریق بنادیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ناظرین کو کرکٹ سے محروم نہ رکھاجائے۔ کرکٹ بورڈ کو یقین ہے کہ انگلینڈ میں موجود بورڈ کے سربراہ شہریارخان فریقین سے بات چیت کرکے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

جب اس سلسلے میں ٹین سپورٹس سے رابطہ کیاگیا تو یہ کہہ کر بات کرنے سے معذرت کرلی گئی کہ یہ معاملہ کورٹ میں ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان اسوقت لندن میں ہیں جہاں وہ اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور اپنے قانونی مشیر سے مسلسل رابطے میں ہیں ۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہریارخان نے کہا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ ہوم سیریز کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن فریقین ٹین اسپورٹس اور اے آر وائی نے انہیں یقین دہانی کرادی ہے کہ سیریز کی کوریج متاثر نہیں ہوگی۔ اس یقین دہانی کا مطالبہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کیا تھا ۔

شہریار خان نے کہا کہ وہ اے آر وائی اور ٹین سپورٹس کے درمیان شدید اختلافات سے پہلے سے باخبر تھے تاہم وہ اس معاملے میں غیرجانبدار رہتے ہوئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد