قلات میں دھماکہ، چار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر قلات میں ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دھماکے میں تین افراد فوراً ہلاک ہوئے تھے لیکن اب ایدھی مرکز کوئٹہ نے بتایا ہے کہ قلات میں ایک اور زخمی چل بسا اور اس کی میت یہاں فوجی ہسپتال لائی گئی ہے۔ پہلے دو شدید زخمیوں کو سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس لایا گیا تھا جبکہ پندرہ زخمی قلات ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی تعداد پندرہ بتائی جاتی ہے۔ تین زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جنھیں کوئٹہ ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ دھماکہ پونے بارہ بجے شاہی بازار میں ایک حلوائی کی دکان کے پاس ہوا ہے۔ ضلعی رابطہ افسر ظفراللہ خان لونی نے بتایا ہے کہ اس دھماکے سے دکان کا مالک ایک ملازم اور ایک مزدور ہلاک ہو گئے ہیں۔ بم دھماکے کے بعد قلات میں دکانیں احتجاجی طور پر بند کر دی گئیں۔ قلات کو بلوچستان میں ایک تاریخی اہمیت حاصل ہے کیونکہ خان آف قلات کو بلوچستان کے تمام سرداروں کا سردار سمجھا جاتا ہے۔ صوبے میں جاری بم دھماکوں اور راکٹ داغنے کے واقعات سے قلات بھی متاثر ہوا ہے اور آئے روز یہاں فرنٹیئر کنسٹیبلری کے کیمپ کے پاس یا انتظامی دفاتر کے قریب راکٹ داغے جاتے ہیں۔ لیکن اب تک ان دھماکوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ منگل کے روز ہونے والے دھماکے کے بعد سے قلات کے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ گنجان آبادی والے علاقے میں اب تک دھماکے کم ہی ہوئے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز وزیراعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے کراچی میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں القاعدہ کا وجود نہیں ہے بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی اس صوبے میں متحرک ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران دو علیحدہ علیحدہ واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں تین قانون نافذ کرنے والے اہلکار شامل تھے ۔ ایک اور واقعہ میں نیم فوجی دستوں نے خضدار کے قریب دو شہریوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||