BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 August, 2004, 16:35 GMT 21:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں شٹر ڈاؤن

بلوچستان کے قوم پرستوں رہنماؤں نے ہڑتال کو انتہائی کامیاب قرار دیا ہے
بلوچستان کے قوم پرستوں رہنماؤں نے ہڑتال کو انتہائی کامیاب قرار دیا ہے
بلوچستان میں بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کو انتہائی کامیاب قرار دیا ہے اور کہا ہے عوام نے فوجی چھاونیوں اور گوادر میگا پراجیکٹ کے خلاف اپنا رد عمل دے دیا ہے۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر بلوچ علاقوں میں آج کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہیں جبکہ بعض علاقوں میں گرفتاریوں کا سلسلہ دن بھر جاری رہا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ اور نیشنل پارٹی اور تاجروں اور عوام سے اپیل کی تھی کہ جمعہ کے روز دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہیں۔

دوپہر کو اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میر ہمایوں مری نے کہا ہے کہ حکومت نے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں تاکہ ہڑتال کو ناکام بنایا جا سکے لیکن یہ ایک تاریخی اور کامیاب ہڑتال تھی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیڈر عبدالولی کاکڑ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے جاری مذاکرات اپنی جگہ پر قائم ہیں لیکن آج ہڑتال کے ذریعے انہوں نے حکام تک بلوچستان کے لوگوں کی آواز پہنچا دی ہے اور یہ ان کا جمہوری حق ہے۔

کچکول علی ایڈووکیٹ اور طاہر بزنجو نے کہا ہے کہ اس وقت جمہوریت نام کی کوئی چیز ملک میں نہیں ہے فوجی حکمران ہی سب کچھ اپنی مرضی سے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ صوبہ بھر سے ان کے سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی جی پولیس پرویز بھٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے پچاس کے لگ بھگ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں وکلاء بھی شامل ہیں۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر واسع ترین نے ان گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ احتجاج کا ہر راستہ اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پولیس اور ایجنسیاں جان بوجھ کر صوبے کے حالات خراب کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ گوادر خضدار قلات تربت پنجگور سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں بھی مکمل ہڑتال رہی ہے۔ گوادر میں احتجاجی جلسے سے قوم پرست قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر منصوبہ مقامی افراد کے لیے نہیں بلکہ پنجاب کے لیے بنایا جا رہا ہے جس کی وہ مخالفت کرتے رہیں گے۔ ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے ہیں تعلیمی ادارے بند کرادیے گئے تھے اور سڑکوں پر ٹائر جلائے گئے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد