چوہدری شجاعت کی آخری خواہش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ وہ مستعفی ہو رہے ہیں اور شوکت عزیز آئندہ ہفتے وزیراعظم بن جائیں گے لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ قوم سے خطاب کرنا چاہتے ہیں تاکہ بطور وزیراعظم اپنی دو ماہ سے تھوڑی سی کم مدت کی کارکردگی کے متعلق عوام کو آگاہ کرسکیں۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز پارلیمینٹ میں واقع اپنے چیمبر میں ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے بتایا کہ جمعہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس شام کو ہوگا۔ جس میں شوکت عزیز بطور رکن اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اٹک اور تھرپارکر میں پولنگ سٹیشنز پر ووٹرز تو کم تھے لیکن لاکھوں کی تعداد میں ووٹ کہاں سے نکل آئے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ کسی نے’ ٹھپے مار کر ڈبے بھرنے‘ کی شکایت نہیں کی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے وردی اتارنے کے متعلق سوال پر انہوں نے روایتی انداز کے ساتھ پنجابی زبان میں جواب دیا ’ اوئے یار پھر اوئی گل،۔(اے دوست پھر وہ ہی بات)۔ جماعت اسلامی کے القاعدہ سے تعلقات کے الزامات کے بارے میں چند دنوں بعد وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے والے شجاعت حسین نے کہا کہ بطور پارٹی ’جماعت اسلامی، پر الزام نہیں تاہم ان کے کچھ افراد پر الزام ہے۔ جب صحافیوں نے کہا کہ آپ پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے اپنی مدت پوری تو انہوں نے کہا ’پھر تو مٹھائی کھلائیں ناں،۔ وزارت اعظمیٰ کے آخری دنوں میں شاید آخری خواہش انہوں نے قوم سے خطاب کرنے کی ظاہر کی ہے جس کے پورے نہ ہونے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ وزیراعظم نے ساتھیوں سے الوداعی ملاقاتیں شروع کردی ہیں اور شوکت عزیز کو وزیراعظم منتخب کرانے کے لیے حکمت عملی کے متعلق مشاورت بھی کی تاہم صدر جنرل پرویز مشرف کے شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے شاید حتمی فیصلہ جمعرات کو نہیں کرسکے۔ دریں اثناء شوکت عزیز کی کامیابی پر شہر کی اہم شاہراہوں پر مبارکباد کے رنگ برنگے بینر لگائے گئے ہیں، پارلیمینٹ کے ’ڈی چوک، پر ایک بڑا بینر مبارکباد کا لگا ہوا تھا جس پر صدر پرویز مشرف، جانے والے وزیراعظم شجاعت حسین، آنے والے وزیراعظم شوکت عزیز اور صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ کی نمایاں تصاویر ہییں۔ شاہراہ دستور پر کھنبوں پر بھی شوکت عزیز کو مبارکبادی بینر لگے ہوئے ہیں، ان بینروں پر ان لوگوں کے نام ہیں جو ہر آنے والے حکمران کے اسقتبال کرتے ہیں۔ اٹھائیس جون کو بطور وزیراعظم حلف اٹھانے والے چودھری شجاعت حسین کے تاحال اس عہدے پر رہنے کے دوران ’کے ٹو، سر کیے جانے کی گولڈن جوبلی تقریبات کا افتتاح کرنے کے علاوہ افغانستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ اور امریکہ کے نائب وزیر رچرڈ آرمیٹیج سے بھی ملے۔ بیرون ملک سے پاکستانیوں کی میتیں مفت لانے کے لیے ’پی آئی اے، کو حکم دینے کے ساتھ، ٹیلی کمیونیکیشن کے روزانہ اجرت کے ملازمین کو مستقل کرنے،جھوٹ بولنے کو روکنے کے لیے قانون سازی کرنے اور بھارتی وزیراعظم کی جائے چکوال میں جائے پیدائش گاہ کو ماڈل ولیج کا درجہ دینے اور وہاں کے پرائمری سکول کا نام منموہن سنگھ سے منسوب کرنے کے احکمات بھی انہوں اپنے قلیل المدت دور حکمرانی میں جاری کیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||