’دارفور کا سیاسی حل ہونا چاہیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے سوڈانی حکومت سے کہا ہے کہ درافور کے علاقے میں جاری بحران کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ ریاض کھوکھر نے جو صدر پاکستان کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے سوڈان کے دورے پر گئے ہیں دارفور میں سکیورٹی کی صورت حال کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ خرطوم میں سوڈان کے صدر سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ سوڈان کی حاکمیت اعلی، جغرافیائی تحافظ اور وقار کو پیش نظر رکھتے ہوئے درافور کا پرامن سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ نے سوڈان کی حکومت کو دارفور میں مسلح گروہو کو غیر مسلح کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیس دن کی مہلت دی ہے۔ اگر سوڈان کی حکومت تیس دن کے اندر یہ اقدام کرنے میں ناکام رہی تو اس کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ بچوں کی ایک عالمی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ نے مغربی دافور کے علاقے میں پر تشدد واقعات کی اطلاع دی ہیں۔ دارفور میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے اوپر حملے اور خواتین کی آبروریزی کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ سال اس بحران کے شروع ہونے سے اب تک پچاس ہزار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جس میں دو لاکھ افراد ہمسایہ ملک چاڈ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||