شفاء بخش چشمے خشک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کا شمالی شہر ایبٹ آباد اپنے خوشگوار موسم، بہترین تعلیمی اداروں کے علاوہ ایک مسجد کے لیے بھی مشہور ہے۔ الیاسی مسجد کی خصوصیت یہاں پھوٹنے والا ایک چشمہ ہے۔ لوگ دور دور سے اس چشمے کے پانی سے نہا کر صحتیاب ہونے کے لیے آتے ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں سے یہ چشمہ سوکھ ساگیا ہے۔ پانی قدرت کی نعمت ہے، زندگی ہے اور تازگی ہے۔ تقریبا ستر برس پرانی ایبٹ آباد کی الیاسی مسجد میں پھوٹنے والے قدرتی چشموں کے پانی کو لوگ تبرک اور بیماریوں سے شفاء دلانے والی
عبدالقدوس سانگھڑ سے آئے ہوئے تھےاور نہانے کے لیے ایک لمبی قطار میں اپنےنمبر کا انتظار کر رہے تھے۔ ان سے پوچھا کہ اتنے سرد پانی سے نہا کر وہ کیا شفاء حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی اس مسجد کے بارے میں کافی عرصے سے سنا ہوا تھا لہذا اب کی بار جب ایبٹ آباد آئے تو ادھر بھی آگئے۔ ’سنا ہے اس پانی سے صحت ملتی ہے اسی لیے نہا رہا ہوں۔‘ خواتین کے لیے الگ استفادہ کرنے کی باپردہ جگہ بنائی گئی ہے۔ لیکن وہ بھی آج کل اجڑی پڑی ہے۔ اس مسجد کے خطیب مولانا محبوب الرحمان سے پوچھا کہ آیا واقعی یہ پانی اچھی تاثیر رکھتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ سائنسی طور پر تو اسے ابھی تک ثابت نہیں کیا گیا ہے لیکن یہ پانی دیگر ٹیوب ویلوں کے پانی سے مختلف ضرور ہے۔
مسجد کے باہر ایک بڑا تالاب بھی خشک پڑا ہے۔ کسی زمانے میں اس میں لوگ کشیاں چلایا کرتے تھے لیکن اب نہیں۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح بارشوں کی کمی سے اس مسجد کا چشمہ بھی تقریبا سوکھ گیا ہے۔ پہلے چشمے کا پانی کبھی کبھی ختم ہوجاتا تھا لیکن اب اس کے غائب رہنے کا عرصہ کافی طویل ہوگیا ہے۔
اس مشکل کا حل مسجد کی انتظامیہ نے تین انچ کے ٹیوب ویل نصب کرنے سے نکالا ہے۔ لیکن کئی زائرین اب بھی اس سے بے نیاز کہ یہ سرد پانی اصلی چشمے کا ہے یا نہیں اس سے نہاتے نظر آتے ہیں۔ محبوب الرحمان کا کہنا تھا کہ اس مسجد کے ساتھ مدرسہ بھی ہے پھر نمازیوں کے وضو اور اردگرد کے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹیوب ویل لگانا انتہائی ضروری تھا۔ مسجد کے منتظمین اور زائرین کو امید ہے کہ یہ قدرتی چشمے ضرور ایک مرتبہ پھر بھر آئیں گے جس سے یہ مسجد اپنی انفرادیت بھی برقرار رکھ سکے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||