اوسلو میں پاکستانی میلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک پاکستانی کلچرل تنظیم ناروے میں اگست میں پانچ روز کے لیے پاکستانی آرٹ، کرافٹ اور کلچر پر مبنی ایک میلہ منعقد کررہی ہے جس میں پاکستانی کھانے، دستکاریاں، موسیقی، رقص اور قوالیاں پیش کی جائیں گی اور پتنگیں اڑائی جائیں گی۔ ہرائزن نامی تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد سلیمی نے منگل کو لاہور میں اعلان کیا کہ یہ میلہ انیس اگست سے تئیس اگست تک ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں منعقد کیا جائے گا جہاں اس سے پہلے سنہ دو ہزار ایک اور سنہ ہزار دو میں ایسا میلہ منعقد کرچکا ہے۔ گزشتہ میلے میں پچاس ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس میلے کا مقصد اعلیٰ معیار کے آرٹ اور ہنر کو فروغ دینا ہے اور ناروے میں اقلیتی کمیونٹی کو معاشرے کے بڑے حصہ کو آپس میں جوڑنا ہے۔ خالد سلیمی نے بی بی سی کو بتایا کہ قوال شیر میاں داد، کلاسیکی موسیقی کے استاد شفقت علی خان، طبلہ نواز تاری ، ستار نواز شرف شریف خان وغیرہ میلے میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ میلہ میں ایک دن پتنگیں اڑا کر بسنت کی فضا بنائی جائی گی جس کے لیے چا ر ہزار پتنگیں اوسلو لے جائی جائیں گی۔ سلیمی نے کہا کہ ایک خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کے روایتی کھانے پکانے والے بہت سے لوگ رضاکارانہ طور پر میلے میں جائیں گے اور وہاں لوگوں کو یہ کھانے مہیا کریں گے۔ رفیع پیر تھیٹر کے فیضان پیرزادہ میلے میں ایک بحری جہاز کے سٹیج پر پتلیوں کا کھیل پیش کریں گے۔ میلے کے منظم کاکہنا ہےکہ آخری دن ایک سیپموزیم منعقد کیا جائے گا جس میں مسلمان، یہودی اور عیسائی دانشور اور سکالر آرٹ اور مذہبے کے تعلق کے موضوع پر خطاب کریں گے۔ خالد سلیمی نے بتایا کہ پاکستان کا ناروے میں سفارت خانہ اور ناروے کا پاکستان میں سفارت خانہ اور برٹش کونسل ، یونیسکو کے علاوہ ناروے کی آرٹ اورکلچر کی تنظیمیں اس میلے کے اہتمام میں شریک ہیں جس پر ناروے کی کرنسی میں تیس لاکھ کرونے خرچ آۓ گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||