مجلس عمل کے امیدوار دستبردار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹک کے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت کے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کے مقابلہ میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار قاری سعید الرحمان اور ان کے دو کورنگ امیدوار اے آر ڈی کے امیدوار ڈاکٹر سکندر حیات کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیرالعظیم نے منگل کو بی بی سی کو بتایا کہ تھرپارکر کے ضمنی انتخابات سے بھی مجلس عمل اے آر ڈی کے حق میں دستبردار ہوگئی ہے۔ اٹک میں اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد قاری سعید الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ یہ فیصلہ مرکزی قائدین کی ہدایت پر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجلس عمل اور اے آر ڈی کے درمیان کئی رز سے اس معاملہ پر مذاکرات ہورہے تھے جو آج فیصلہ کن نکتہ پر پہنچے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش تھی کہ متحدہ اپوزیشن میں دراڑیں ڈالی جائیں جسے ناکام بنانے کے لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ایم ایم اے اور اے آر ڈی کے درمیان جو دوریاں پیدا ہورہی تھیں وہ اب نزدیکیوں میں تبدیل ہوجائیں گی۔ مجلس عمل کے اٹک کے ضلعی صدر اور جماعت اسلامی کے ضلعی امیر برکت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ اس جذبہ اور عزم کے ساتھ کیا گیا ہے کہ حکمران ٹولہ کی سازش رہی ہے کہ حزب مخالف کو آپس میں لڑایا جائے اس لیے اس سازش کو ناکامیاب بنانے کے لیے اور حکومتی امیدوار کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے کے لیے مجلس عمل نے ا پنے امیدواروں کو دستبردار کرلیا ہے۔ برکت علی نے واضح الفاظ میں کہا کہ مجلس عمل اے آر ڈی کے امیدوار کی حمایت کرے گی۔ حسن ابدال سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر سکندر حیات اس حلقہ سے اتحاد براۓ بحالی جمہوریت کے امیدوار ہیں۔ انھوں نے گزشتہ عام انتخابات میں تینتالیس ہزار ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||