مطلوب قبائلی حکومت کے حوالے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیرستان میں جمعرات کو شکئی قبائل نے ایک اور مطلوب شخص کو حکومت کے حوالے کیا ہے جبکہ دو انتہائی مطلوب افراد اور حکومت کے درمیان تعطل کے خاتمے کے لئے مذاکرات کی ایک نئی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کوشش بھی قومی اسمبلی کے دو موجودہ اور ایک سابق رکن کر رہے ہیں۔ وانا میں سابق وفاقی وزیر فرید اللہ خان کی سربراہی میں شکئی کے ایک وفد ایک اور مطلوب شخص شوکت اللہ کو مقامی انتظامیہ کے حوالے کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ شخص کوئی اتنا اہم نہیں تھا۔ یہ پیش رفت بھی گزشتہ دنوں شکئی میں بسنے والے قبائل کے حکومت کے ساتھ معاہدے کا نتیجہ ہے۔ لیکن القاعدہ اور طالبان کی مدد میں مطلوب دو دیگر افراد مولوی عباس اور جاوید خان کو حکومت کے حوالے کرنے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔ البتہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو اراکین قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک اور مولانا معراج الدین کے علاوہ سابق ایم این اے مولانا نور محمد نے تعطل دور کرنے کے لئے ایک نئی کوشش کا آغاز کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان نمائندوں نے کل ان دو افراد سے اور بعد میں مقامی انتظامیہ سے ملاقات کی۔ لیکن فی الحال کسی بڑی پیش رفت کے اشارے نہیں مل رہے۔ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے مولانا عبدالمالک نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ وہ پرامید ہیں کہ یہ عمل نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ البتہ انہوں نے واضح کیا کہ اس میں ابھی کافی مراحل باقی ہیں۔ کل صبح وانا میں تمام قبائلی ملکوں اور دیگر افراد کا ایک بڑا جرگہ طلب کیا گیا ہے۔ ادھر حکومت نے آج دوبارہ احمدزئی وزیر قبائل پر معاشی پابندیوں میں نرمی واپس لیتے ہوئے آمدورفت کے لئے سڑکیں ان کے لئے بند کر دی ہیں۔ انہیں یہ سہولت گزشتہ دنوں ان کی پھل اور سبزیاں منڈیوں تک لیجانے کی غرض سے ان کی درخواست پر دی گئی تھی۔ اس سے مقامی لوگوں کی مشکلات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||