دو اسٹیج ڈرامے بند کردیے گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے دو تھیٹروں میں دکھاۓ جانے والے اسٹیج ڈراموں پر پنجاب حکومت نے فحاشی کاالزام عائد کرتے ہوۓ بدھ کی شب سے پابندی عائد کردی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے محفل اور الفلاح تھیٹروں میں دکھاۓ جانے والے اسٹیج ڈراموں ’منڈا شہر لاہور دا‘ اور ’مس کال‘ کو بدھ کے روز سے بند کرنے کا حکم جاری کیا۔ لاہور کے تھیٹروں میں دکھۓ جانے والے ڈراموں پر ذومعنی اور فحش مکالمے بولنے اور نیم عریاں رقص دکھانے کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے شہر کی ضلعی حکومت نے لاہور میں ڈراموں میں رقص دکھانے پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔ تقریبا ایک ہفتہ پہلے محکمہ داخلہ نے ڈراموں میں رقص دکھانے پر پابندی اس شرط پر ختم کردی تھی کہ بےہودہ رقص نہیں دکھاۓ جائیں گے۔ تاہم چند دنوں سے لاہور کے تھیٹروں میں رقص کی بھرمار ہوگئی اور لوگ ان پر فحاشی کے الزمات عائدکرنے لگے۔ لاہور کی شہری حکومت نے اس کی رپورٹ بنا کر محمکہ داخلہ کو دی جس کی بنیاد پر پر یہ پابندی لگائی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ ان ڈراموں میں مرد اور خواتین فنکاروں کو ڈرامہ دیکھنے کے لیے موجود لوگوں کو اخلاقی گراوٹ اور بدعنوانی کا شکار بناتے ہوۓ پایا گیا ہے اوراس طرح یہ امن و امان کی صورتحال پیدا کررہے تھے۔ محکمہ داخلہ نے ان ڈراموں پر پابندی کی وجوہ میں کہا ہے کہ ان میں مرد اور عورتوں نے فحش زبان استعمال کی اور منظور شدہ کہانی سے ہٹ کر مجروں کی صورت میں خواتین اداکاراوں نے رقص کیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||