BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 July, 2004, 13:16 GMT 18:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرداری کی رہائی کی اپیل

اخباری کانفرنس
مخدوم امین فہیم اور زرداری کے وکیل بابر اعوان
پاکستان پیپلز پارٹی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کی زندگی کو خطرہ ہے لہٰذا انسانی بنیاد پر ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں ۔

یہ اپیل بدھ کے روز پیپلز پارٹی کے رہنماؤں مخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف، رضا ربانی اور زرداری کے وکیل بابر اعوان نے زرداری ہاؤس میں ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں کی۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ساڑھے سات سال کی قید مسلسل کے دوران آصف علی زرداری کے دو سرجیکل آپریشن ہوچکے ہیں اور ان کی طبیعت بھی خراب ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کے اس بیان کا بھی خیر مقدم کیا جس میں انہوں نے جھوٹ بولنے اور الزام تراشی کرنے کے خلاف قانون بنانے کی بات کی ہے۔

اخباری کانفرنس کے موقع پر انہوں نے وزیرعظم چودھری شجاعت حسین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر آصف علی زرداری کے خلاف سیاسی بنیاد پر قائم کردہ منشیات کی اسمگلنگ کا مقدمہ واپس لیں اور انہیں رہا کردیں ۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بتایا کہ سن انیس سو ستانوے میں جب چودھری شجاعت حسین وفاقی وزیر داخلہ تھے اس وقت انہیں ’ اینٹی نارکوٹکس فورس، کے ڈائریکٹر جنرل مشتاق حسین جو کہ اس وقت فوج کے حاضر سروس میجر جنرل بھی تھے ، ایک خط لکھا تھا۔

کانفرنس میں وہ خط پڑھتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بتایا کہ اس میں وزیر داخلہ کو مطلع کیا گیا تھا کہ ’احتساب بیورو کی خواہش ہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف منشیات کا مقدمہ اینٹی نارکوٹکس فورس داخل کرے ،۔

ان کے بقول خط میں فورس کے سربراہ نے لکھا تھا کہ ’ اینٹی نارکوٹکس فورس ، ایک اچھی ساکھ والا ادارہ ہے لہٰذا اس ادارے کو ایسے معاملات میں ملوث نہ کیا جائے جن میں ناقابل انکار ثبوت موجود نہ ہوں ، کیونکہ اس سے احتساب کا عمل بے کار ہو سکتا ہے، ۔

News image
پیپلز پارٹی کے بقول یہ خط موصول ہونے کے بعد چودھری شجاعت نے ایک اخباری بیان دیا تھا جس میں ان ا کہنا تھا کہ ’ آصف علی زرداری کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ داخل کیا گیا ہے ، ۔

پیپلز پارٹی کے بقول یہ خط موصول ہونے کے بعد چودھری شجاعت نے ایک اخباری بیان دیا تھا جس میں ان ا کہنا تھا کہ ’ آصف علی زرداری کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ داخل کیا گیا ہے۔،

اس موقع پر ایڈووکیٹ بابر اعوان نے اپنے مؤکل کے بارے میں دعویٰ کیا کہ برصغیر میں آصف زرداری مسلسل چورانوے ماہ قید کاٹنے والا واحد قیدی ہے۔

وکیل کے مطابق ان کے موکل نے سولہ عیدیں مسلسل قید تنہائی میں بیگم اور بچوں کے بغیر گزاریں ہیں جبکہ اس دوران وہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، اٹک اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں پچیس سو گیارہ پیشیاں یا سماعتیں بھگت چکے ہیں ۔

وکیل بابر اعوان کے بقول قید کے دوران ان کی والدہ کوما، میں چلی گئیں اور اکلوتے بیٹے کو دیکھ بھی نہ سکیں جس کے بعد وہ انتقال کر گئیں ۔ یاد رہے کہ حکومت نے والدہ کے کوما، میں جانے کے بعد پیرول پر آصف زرداری کو کچھ دنوں کے لیے پولیس نگرانی میں آبائی گاؤں میں رہنے کی اجازت دی تھی ۔

وکیل کے مطابق ا س وقت آصف زرداری کے خلاف نو مقدمات عدالتوں میں ہیں جس میں سے آٹھ ٹرائل کورٹ جبکہ ایک مقدمہ میں سزا کے خلاف اپیل زیر التویٰ ہے۔

بابر اعوان نے دعویٰ کیا کہ صرف رواں سال میں صوبہ پنجاب کے اندر امن عامہ قائم رکھنے کے قانون (ایم پی او) کے تحت جاری کردہ احکامات واپس لے کر گیارہ سو نظر بند اور گرفتار شدگان کو آزاد کیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی دعوی تھا کہ جنرل مشرف کے اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک کراچی میں چھ سو فوجداری مقدمات جس میں سے بیشتر عدالتوں میں زیر سماعت تھے وہ حکومت نے واپس لے کر ملزمان کو رہا کردیا۔ ان کے بقول سندھ کے گورنر بھی مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں ۔

یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو یہ کہتا رہا ہے کہ ثبوت نہ ملنے پر تحقیقات ، تفتیش اور مقدمات ختم اور واپس کیے جاتے ہیں۔ لیکن حکومت آصف زرداری کے متعلق شروع سے کہتی رہی ہے کہ انہیں عدالتوں میں داخل مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد