کراچی: افسران کی حفاظت سخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس کے سربراہ طارق جمیل نے تمام سرکاری عہدیداران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے دفاتر اور رہائش گاہوں پر سیکورٹی سخت تر کر دیں۔ یہ ہدایت کسی ممکنہ خود کش بم حملے سے بچنے کے لیے دی گئی ہیں۔ پولیس کے اس نئے اقدام کے بعد سے کراچی کی سڑکوں پر بھاری تعداد میں پولیس عملے کی تعیناتی نمایاں طور دیکھی جا رہی ہے۔ کراچی پولیس کے سربراہ طارق جمیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ سرکاری عہدیداران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے دفاتر اور رہائش گاہوں پر سیکورٹی سخت تر کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام چند روز قبل پولیس کی حراست میں موجود ممنوعہ مذہبی تنظیم لشکر جھنگوی کے کارکن کے اس بیان کے بعد لیا گیا ہے جس میں اس نے بات کا انکشاف کیا تھا کہ اکتیس مئی کو کراچی میں واقع امام بارگاہ علی رضا پر ہونے والے خود کش بم حملوں میں خواتین ملوث تھیں۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ اب نہ صرف اہم سرکاری محکموں بلکہ اعلی سرکاری افسران کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دفاتر اور گھروں پر آنے جانے والی خواتین کی جامہ تلاشی کے لیے خصوصی طور پر زنانہ عملہ بھی تعینات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب شہر میں پولیس نے حفاظتی انتظامات کو یقینی اور موثر بنانے کے لیے فلیگ مارچ بھی شروع کر دیا ہے اور سادہ لباس میں خفیہ پولیس کا عملہ بھی حساس مقاما ت پر چوکس ہے۔ اسی دوران کراچی کے ہوائی اڈے پر کسی قسم کی ہنگامی صورتحال کے نفاذ کی خبروں کے پیش نظر جب کراچی ائیر پورٹ کے ڈی جی آپریشنز کرنل تنویر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس وقت کراچی ائیرپورٹ پر حالات پر سکون ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||