وزیر اعظم کا انتخاب منگل کو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کے اسپیکر چوہدری امیر حسین نے منگل کو قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں نئے وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے پیر کی شام تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جاسکتے ہیں۔ میر ظفر اللہ خان جمالی نے ہفتے کی شام کو مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی جگہ چوہدری شجاعت حسین کو پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے نئے وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ میر ظفر اللہ خان جمالی کے مستعفی ہوجانے کے ساتھ ہی ان کی کابینہ کو بھی تحلیل کر دیا گیا تھا۔ منگل کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان
پیپلز پارٹی بھی اپنا امیدوار کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اتفاق رائے سے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرئے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کے حزب اختلاف کی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کریں گی۔ اس سلسلے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی کا ایک ہنگامی اجلاس اتوار کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے وزیراعظم کے لئے نامزد رہنما چودھری شجاعت حسین نے اتوار کے روز پنجاب ہاؤس میں پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کے اراکین پارلیمینٹ سے ملاقاتیں کیں۔ سردار فاروق احمد لغاری ، حامد ناصر چٹھ
مسلم لیگی رہنما نے پیر کے روز اتحادی جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس گیارہ بجے پارلیمینٹ ہاؤس میں طلب کیا ہے ۔ ادھر اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آر ڈی ، کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے رضا ربانی کے ہمراہ بلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں سردار عطاءاللہ مینگل اور محمود خان اچکزئی سے ملاقات کر کے حزب اختلاف کی جانب سے وزارت اعظمیٰ کا امیدوار نامزد کرنے کے بارے میں مشاورت کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما رضا ربانی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اتوار کی شام پانچ بجے مسلم لیگ نواز کے ساتھیوں سے ملاقات ہوگی اور ان سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ ان کے بقول شام سات بجے پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل مشترکہ طور پر وزیراعظم کا امیدوار لانے کی کوئی تجویز ہے ؟ اس پر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ نہیں ۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ اے آر ڈی کا امیدوار مخدوم امین فہیم ہوسکتے ہیں لیکن اس کا فیصلہ باہمی مشاورت کے بعد ہی ہوگا۔ اس ضمن میں جب چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشاورت کر رہے ہیں اور بعد میں اے آر ڈی سے بھی رابطہ کریں گے۔ قومی اسمبلی کے سیکریٹری محمود سلیم محمود نے بی بی سی ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نےووٹنگ کے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔ اسمبلی کے سیکریٹری کے مطابق پیر کو دو بجے دوپہر تک کاغذات نامزدگی وصول کیے جائیں گے ۔ تین بجے کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور قائد ایوان کے امیدواروں کی حتمی فہرست کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کی شام چار بجے قائد ایوان کا انتخاب ہوگا اور ووٹنگ کا طریقہ کار اراکین کی لابیوں میں تقسیم سے ہوگا ۔ ان کے بقول جتنے امیدوار ہوں گے ان کے حامیوں کے لئے لابیاں مختص کی جائیں گی اور جو رکن جس امیدوار کے حامی ہوں گے وہ ان کی لابی میں جا کر نام درج کرائیں گے۔ سیکریٹری قومی اسمبلی کے مطابق قومی اسمبلی کے اس اجلاس کی صدارت اسپیکر چودھری امیر حسین کریں گے اور مندرجہ بالہ طریقہ کار کے مطابق ووٹنگ کے بعد قومی اسممبلی کے اسپیکر نتائج کا اعلان کریں گے اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||