انیسواں وزیراعظم فارغ کردیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میر ظفر اللہ جمالی کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں انیسویں وزیراعظم کا باقاعدہ دور ختم ہو گیا۔ ان سے پہلے قیام ہاکستان سے ظفر اللہ جمالی کے وزیر بننے تک اٹھارہ وزیراعظم آئے ہیں جن میں سے چار نگراں وزیرِ اعظم تھے۔ پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان تھے جو پندرہ اگست انیس سو سینتالیس سے سولہ اکتوبر انیس سو
اکیاون میں قاتلانہ حملے کا نشانہ بننے تک برسرِاقتدار رہے۔ان کے بعد وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنے والوں کی تفصیل درج ذیل کے مطابق ہے۔ خواجہ ناظم الدین 19اکتوبر1951 سے 17 اپریل 1953 تک۔ صدر اسکندر مرزا نے مارشل لاء لگانے والے بری فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان کو وزیرِاعظم مقرر کیا جنہوں نے حلف اٹھانے کے کچھ ہی گھنٹے کے بعد اسکندر مرزا کو سبکدوش کر کے اقتدار پر مکمل قبضہ کر لیا اور وزیرِاعظم کا عہدہ ہی ختم کر دیا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے 20 دسمبر1971 کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدرِ مملکت کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا اور 13اگست 1973 تک صدر مملکت رہے۔ 14اگست 1973 کو نئے آئین کے نفاذ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو وزیرِاعظم بن گئے اور 5جولائی 1977 کو برطرف کیے جانے اور مارشل لاء کے نفاذ تک وزیرِاعظم رہے۔ محمد خان جونیجو 23مارچ 1985 سے 29مئی 1988 تک۔ بے نظیر بھٹو 2دسمبر88 سے 6اگست 1990تک۔ غلام مصطفےٰ جتوئی ( نگراں ) 6اگست 1990 سے 6 نومبر 1990 تک۔ محمد نواز شریف 6 نومبر 1990 سے 18 اپریل 1993 تک۔ میر بلخ شیر مزاری 18 اپریل 1993 سے 26 مئی 1993 تک۔ محمد نواز شریف 26 مئی 1993 سے 18 جولائی 1993 تک۔ صدر غلام اسحاق خان نے 18اپریل 1993 کو محمد نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو بھی توڑ دیا تاہم سپریم کورٹ نے صدر کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دے کر محمد نواز شریف کی حکومت بحال کر دی۔ مبصرین کے مطابق اس کے باوجود صدر اسحاق اور وزیرِاعظم نواز شریف کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف نے مداخلت کی اور صدر اور وزیرِاعظم دونوں کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ جس کے بعد صورتِ حال کچھ یوں رہی۔ معین الدین قریشی ( نگراں ) 18 جولائی 1993 سے 19اکتوبر 1993 تک۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||