قصوری اور نٹور سنگھ کے درمیان ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے شہر چھنگ تاو میںپاکستان کےوزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور ان کے ہندوستانی ہم منصب نٹور سنگھ کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔ دونوں وزراء خارجہ ایشین کواپریشن ڈائلاگ کے ایک اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں- خورشید قصوری اور نٹور سنگھ ہانگ کانگ سے ایک ہی طیارہ میں چھنگ تاو پہنچے ہیں۔ اڑھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی یہ ملاقات کھانے کے وقت ہوئی جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سابقہ بھارتی حکومت کی طرف سے شروع کی جانے والی بہتر تعلقات کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے معاملات زیرِ بحث آئے۔ پہلے ہی دونوں ملکوں کے اعلیٰ اہلکار گزشتہ دو روز کے دوران دو مرتبہ ملے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ وہ جوہری ٹیسٹ نہیں کریں گے اور ایک ہاٹ لائن قائم کریں گے۔ کہا گیا ہے کہ ان اقدامات کا تعلق دنوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے اور ان خطرات کو کم کرنا ہے جو دونوں ملکوں کے جوہری قوت بن جانے سے پیدا ہوئے ہیں۔ بھارت میں نئی کانگریس حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستانی وزیرِ خارجہ اور ان کے بھارتی ہم منصب کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ تاہم دونوں لیڈروں کے مابین ماضی میں ایک سے زیادہ مرتبہ ٹیلی فون پر بات چیت ہو چکی ہے۔ بھارت میں حکومت کی تبدیلی کے بعد جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے نئے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کو مبارکباد کا پیغام بھیجا تھا جس کے بعد خورشید قصوری نے بھی نٹور سنگھ کو ایسا ہی مبارکباد کا ٹیلی فون کیا تھا۔ بیس اور اکیس جولائی کو سارک کانفرس کے وزارئے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے نٹور سنگھ پاکستان بھی آ رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی حالیہ کوششوں کا سہرا سابق بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی کے سر رکھا جاتا ہے کیونکہ مبصر کہتے ہیں کہ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کی کافی کوششیں کیں۔ پاکستان کی طرف سے ان کی کوششوں کا باقاعدہ اور رسمی اعتراف وزیرِ اعظم ظفر اللہ جمالی کے ایک خط سے کیا گیا تھا۔ انہی کوششوں کی وجہ سے گزشتہ دو روز میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں جن کی اگلی کڑی اس ماہ کے آخر میں ملکوں کے خارجہ سیکٹریوں کی بات چیت ہے جس کے لئے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||