سابق وزیرقتل، سزائے موت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے سابق صوبائی وزیر قانون چوہدری محمد فاروق اور ان کے ساتھیوں کے قتل میں ملوث پانچ ملزمان کو چھ چھ بار سزاۓ موت، چھ چھ بار ہی عمر قید اور سات سات لاکھ روپے جرمانہ کی سزادی ہے۔ چوہدری فاروق اور ان کے ساتھیوں کو مبینہ طور پر انتخابی رنجش کی بنیاد پر قتل کیا گیا تھا۔ گوجرانوالہ کی اس خصوصی عدالت نے اس مقدمہ میں ملوث ایک مقامی سیاسی شخصیت راجہ مسعود سرور کو عمر قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزابھی دی ہے۔ استغاثہ کے مطابق راجہ مسعود سرور چوہد ری فاروق کے گروپ کے مقابلہ میں تحصیل ناظم اور یونین ناظم سرائے عالم گیر کا الیکشن ہار گئے تھے۔اسی رنجش میں مبینہ طور پر راجہ سرور کے ایما پر انتیس دسمبر سن دو ہزار دو میں مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے چوہدری فاروق، اور ان کے پانچ ساتھیوں کو قتل کر دیا تھا۔ جبکہ دو افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر ستائیس اکتوبر سے اس مقدمہ کی سماعت روزانہ کی بنیاد پرہو رہی تھی۔ سزاۓ موت پانے والوں میں اورنگ زیب، تصور، حفیظ، شوکت اور عرفان شامل ہیں۔ جن ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کیا گیا ان میں اشتیاق، مسعود، محمود، خالد اور وارث شامل ہیں۔ جبکہ دیگر دس ملزمان ابھی مفرور ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||